29 جولائی 2012 - 19:30

شام سے ملنے والي خبروں کے مطابق شامي فوج ملک کے شمال مشرقي صوبے حلب ميں غيرملکي حمايت يافتہ دہشتگردوں کے خلاف فيصلہ کن کاروائي کر رہي ہے۔

ابنا: سرکاري ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال مشرقي صوبے حلب کے بعض علاقوں ميں فوج اور دہشتگردوں کے درمياں گھمسان کي لڑائي جاري ہے جبکہ شہر کے بيشتر علاقوں کو دہشتگردوں سے پاک کرکے امن بحال کرديا گيا ہے - اتوار کے روز کي جانے والي کاروائي ميں شامي فوج نے بہت بڑي تعداد ميں دہشتگردوں کو ہلاک کرديا تھا جبکہ بہت سے دہشتگرد پسپائي اختيار کرتے ہوئے پڑوسي ملک ترکي فرار ہوگئے ہيں۔ايک اور اطلاع يہ ہے کہ سعودي عرب کا ايک خطرناک دہشتگرد ادلب شہر ميں شامي فوج کي کاروائي کے دوران مارا گيا ہے- ہلاک ہونے والے سعودي دہشتگرد کا نام جہاد سالم الحربي بتايا جاتا ہے اور اسے ادلب کے نواحي ديہات کورين ميں ہلاک کيا گيا۔حاليہ چندروز کے دوران ادلب شہر ميں متعدد غير ملکي دہشتگردوں کو ہلاک کيا گيا ہے جن ميں سے بيشترکا تعلق سعودي عرب سے تھا۔آمدہ خبروں ميں کہا گيا ہے کہ حلب شہر کےصلاح الدين ٹاون  کو دہشتگردوں سے مکمل پاک کرديا گيا ہے اور وہاں زندگي معمول پر آگئي ہے۔شام کے الاخباريہ نيوز چينل نے بتايا ہے کہ شامي  فوج ، صلاح الدين ٹاون سے بھاگنے والے دہشتگردوں کا تعاقب کر رہي ہے- شام کي سرحدي سيکورٹي فورس نے ترکي کے ساتھ ملحقہ سرحدي علاقے عين البيضا سے دراندازي کوشش ناکام بناتے ہوئے دہشتگردوں کے ايک بڑے گروہ کو کا قلع قمع کرديا ہے۔حکومت شام کا کہنا ہے کہ دہشتگرد عناصر ہمسايہ ملکوں کي سرحدوں سے ملک کے اندر داخل ہوتے اور نہتے شہريوں کے قتل وغارتگري کا بازار گرم کرتے ہيں۔حمص ، حلب، ادلب، ديرالزور، دمشق، درعا شام کے ايسے شہر ہيں جہاں حاليہ چند روز  کے دوران شامي فوج اور دہشتگردوں کے درميان زبردست لڑائي ہوتي رہي ہے۔شامي  فوج کي کاروائيوں کے نتيجے ميں دہشتگرد عناصر پسپائي اختيار کرنے پر مجبور ہوگئے ہيں جسکي وجہ سے شام مخالف مغرب۔  عرب اتحاد کو سخت تشويش اور پريشاني لاحق ہوگئي ہے- شام مخالف مغرب۔ عرب اتحاد کي تشويش کا اندازہ اس بات سے لگايا جاسکتا ہےکہ نام نہاد سيرين نيشنل کونسل کے سربراہ عبدالباسط سيدا نے متحدہ عرب امارات ميں پريس کانفرنس کے دوران عرب ملکوں سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ جديد ترين اور مخصوص ہتھار فراہم کريں تاکہ مسلح گروپ شامي فوج کا مقابلہ کرسکيں۔

.......

/169