13 جولائی 2012 - 19:30

علامہ سید ساجد علی نقوی نے جامعہ الزہراء للبنات فیصل آباد میں منعقدہ تنظیمی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مجھے یہ سعادت حاصل ہے کہ میں قائد شہید کے دستور کے تحت تاحیات منتخب قائد ہوں / میرے پاس ولی فقیہ کے تمام اختیارات موجود ہیں، میں امر بالمعروف کا تیسرا درجہ بھی استعمال کرسکتا ہوں۔

ابنا: جامعہ الزہراء للبنات فیصل آباد میں منعقدہ تنظیمی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل کے سربراہ نے کہا کہ میرے پاس ولی فقیہ کے تمام اختیارات موجود ہیں، میں امر بالمعروف کا تیسرا درجہ بھی استعمال کرسکتا ہوں، بس ہمیں اپنا مذہب، مکتب اور اس کے حقوق عزیز ہیں جن کی ہم جنگ لڑ رہے ہیں۔

شیعہ علماء کونسل، جعفریہ یوتھ اور جے ایس او فیصل آباد کا ڈویژنل تنظیمی کنونشن جامعہ الزہراء للبنات گلشن حیدر سدھو پورہ فیصل آباد میں منعقد ہوا، جس میں تنظیمی کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی، تنظیمی کنویشن میں مختلف رہنماؤں نے خطاب کیا، جبکہ شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے صدارتی خطاب کیا۔ علامہ ساجد نقوی نے کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے کامیاب کنونشن کے انعقاد پر کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس قسم کے تنظیمی اجلاسوں کا انعقاد امید افزاء ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ تنظیمی عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے کبھی رکا نہیں، حالات کے مطابق انداز اور طریقہ کار میں تبدیلیاں آتی رہیں مگر تنظیمی عمل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ قائد ملت کا پہلا قومی ٹائٹل علامہ سید محمد دہلوی (رہ) سے شروع ہوا۔ انہوں نے اپنی انتھک جدوجہد سے قومی مطالبات پر اہم اقدامات کئے پھر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے پلیٹ فارم سے قائد ملت مرحوم مفتی جعفر حسین (رہ) نے انہی مطالبات کی روشنی میں اپنی جدوجہد کو آگے بڑھایا اور آگے چل کر انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد قائد ملت کے ساتھ ساتھ نمائندہ ولی فقیہ کا بھی اضافہ ہوا اور قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی (رہ) قومی قیادت کے ساتھ امام خمینی (رہ) کے نمائندے بھی تھے۔ انہوں نے اپنی جدوجہد سے تنظیمی عمل کو بہتر انداز سے منظم کیا اور دستور کو مرتب کیا، مجھے سعادت حاصل ہے کہ میں قائد شہید کے بہتر اور منظم دستور کے تحت تاحیات منتخب قائد ہوں اور مجھے یہ بھی سعادت حاصل ہے کہ میں حضرت امام خمینی اور رہبر معظم کا نمائندہ ہوں۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ہمارے دور میں اس قومی پلیٹ فارم کو عظیم کامیابیاں حاصل ہوئیں اور دو صاحب عمامہ افراد کو ایوان بالا میں پہنچایا، اگر کسی میں ہمت ہے تو اس قسم کے کام کرے اور قومی آواز کو قانونی انداز سے ایوانوں تک پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کہیں پر بھی اپنے مکتب کے حقوق پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔ شیعہ علماء کونسل کے سربراہ نے کہا کہ میں اتحاد و وحدت کا علمبردار ہوں، مگر ناموس صحابہ بل پر 7 سال تو کیا 7 سیکنڈ کی سزا کے لیے بهی تیار نہیں، دشمن نے ہم پر پابندی لگائی اور انہیں حق تھا کہ وہ ہم پر پابندی لگاتے، کیونکہ ہم اس مرحلے پر پہنچ چکے تھے جہاں پاکستان کے مستقبل کے فیصلے ہونے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک اہم فیصلہ ہم نے کیا بھی تھا (58 /2) b جس میں 5 لوگ شامل تھے جب ہم نے طے کیا تو وہ پارلیمنٹ سے پاس ہوا تھا، یہ دشمن کو گوارا نہیں تها، جبھی ہم پر پابندی لگائی گئی، مگر ہمارا سفر جاری ہے، ہم اتحاد و وحدت پر بھی بھرپور کردار ادا کرتے رہے ہیں اور اپنی انہی کوششوں کے نتیجے میں آج ہم مین سٹریم میں موجود ہیں اور اپنے دشمن کو گندگی کے ڈھیر پر پہنچا دیا اور آج وہ گندگی کے ڈھیر پر کھڑے ہیں اور اس گندگی کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ اگر ان کو دودھ میں لاکھڑا کیا جائے تو مرجائیں گے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ اتحاد و وحدت کے ساتھ ساتھ اپنے مذہب کے اصلی چہرے کو متعارف کرانے کی ضرورت ہے اور ہم نے تمام مکاتب فکر کو مذہب تشیع کا اصلی چہرہ متعارف کرایا ہے، اس کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے، جو خرافات کے ذریعے مذہب کی شناخت کو مخدوش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ پیار و محبت سے ان کو سمجھائیں اور میرا پیغام پہنچائیں کہ میرے پاس ولی فقیہ کے تمام اختیارات موجود ہیں، میں امر بالمعروف کا تیسرا درجہ بھی استعمال کرسکتا ہوں، بس ہمیں اپنا مذہب، مکتب اور اس کے حقوق عزیز ہیں، جن کی ہم جنگ لڑ رہے ہیں۔

.......

/169