ابنا: سنہ دو ہزار دس میں، غیر قانونی رہائش رکھنے والے پانچ سو افراد گرفتار کیے گئے تھے ۔ جبکہ سنہ دو ہزار گیارہ میں گرفتار کیے گئے ایسے افراد کی تعداد، بڑھ کت سات سو سترہ تک جا پہنچی تھے ۔ سنہ دو ہزار بارہ کے سال رواں کی پہلی سہ ماہی کے دوران، غیر قانونی طور پر رہائش رکھنے والے دو سو چھیانوے غیر ملکی گرفتار کیے جا چکے ہیں اور ایسی گرفتاریوں کو یہ سلسلہ ملک بھر میں جاری ہے ۔
البورگ یونیورسٹی سے منسلک ’’ ایمیگریشن امور ‘‘ کی محقق ٹرینے لُنڈ تھومسن کا کہنا ہے کہ کوئی دس سال پہلے یہ تصور کیا جاتا تھا کہ ڈنمارک میں کوئی غیر قانونی تارک وطن نہیں پایا جاتا ۔ لیکن اب یہ دکھائی دیتا ہے کہ ایسا ناممکن نہیں ہے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ پہلے یہی سمجھا جاتا تھا کہ ڈنمارک میں بہت ہی زیادہ کنٹرول کیا جاتا ہے اور ہماری روزگار کی منڈی اور سماجی رفاعی ماڈل، اس طرح غیر قانونی غیر ملکیوں کے لیے کشش نہیں رکھتے جیسا کہ کسی عام لبرل ملک میں ممکن ہو سکتا ہے ۔وفاقی پولیس کے ماتحت، نیشنل ایمیگریشن سنٹر سے منسلک پولیس انسپکٹر، سٹین پیڈرسن کا کہنا ہے کہ اب ایسا نہیں ہے ۔روزنامہ برلنگسکے کے مطابق، منسلک پولیس انسپکٹر، سٹین پیڈرسن کا کہنا ہے کہ پولیس کے بیشتر حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پہلے کی نسبت اب بہت زیادہ غیرقانونی تارکین وطن ملک میں پائے جاتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ یہ غیر قانونی تارکین وطن دو ہزار ہیں یا پھر بیس ہزار، کیونکہ یہ غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں اس لیے ان کی اصل تعداد کا تعین کرنا دشوار ہے ۔.......
/169