امام مہدی علیہ السلام وہ شخصیت ہیں جن کو نجات دنیا کو نجات دینے والا بھی کہا جاتا ہے حدیث کے مطابق ان کا ظہور قیامت کے نزدیک ہوگا۔ ان کے وجود کے بارے میں مسلمان متفق ہیں اگرچہ اس بات میں اختلاف ہےکہ وہ پیدا ہو چکے ہیں یا نہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک امام مہدی علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے نزدیک اسلامی حکومت قائم کر کے دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
ایک ایسے شخص کے بارے میں عقائد تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں ملتے ہیں جو آخرِ دنیا میں خدا کی سچی حکومت قائم کرے گا اور دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں متعدد مذاہب میں پیشینگوئیاں ملتی ہیں اور الہامی کتب میں بھی یہ ذکر شامل ہے۔ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق یہ شخص امام مہدی علیہ السلام ہوں گے اور ان کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور بھی ہوگا اور یہ دونوں علیحدہ شخصیات ہیں۔ ان کی آمد اور ان کی نشانیوں کی حدیث میں تفصیل موجود ہے پھر بھی اب تک مھدویت کے کئی جھوٹے دعویدار پیدا ہوئے اور فنا ہو گئے۔
حوالوں میں دی گئی قدیم کتابوں میں ان کے کئی القاب ملتے ہیں۔ جن میں سے مہدی سب سے زیادہ مشہور ہے۔ ان کا اصل نام محمد ہے مگر مہدی اس قدر مشہور ہے کہ اسے ہی ان کے نام کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے القاب و خطابات یہ ہیںمہدی: ہدایت پائے ہوئے القائم: کھڑا ہونے والا۔ یہ لقب اوپر دی گئی حدیث میں ہے جس میں ان کے بارے میں یہ لقب استعمال کیا گیا ہے۔
المنتظَر : جن کا انتظار کیا جا رہا ہے صاحب الزمان: اہل تشیع کے مطابق وہ زمانے کے امام ہیں۔ امام عصر یا امامِ زمانہ: یہ بھی صاحب الزمان کے معنی میں ہے اہل تشیع کے عقیدے کے مطابق امام مہدی علیہ السلام پیدا ہوچکے ہیں۔ وہ پانچ سال کی عمر میں غیبت میں چلے گئے مگر اپنے عمال یا نائبین کے ساتھ رابطہ رکھا۔ اس وقت کو غیبت صغریٰ کہتے ہیں۔ غیبتِ صغریٰ کے دوران وہ اپنے معاملات اپنے نائبین کے ذریعے چلاتے رہے۔
ایسے چار نائبین کے نام تاریخ میں ملتے ہیں۔ غیبتِ صغریٰ 260ھ سے 329ھ تک چلتی رہی۔ بعد میں وہ مکمل غیبت میں چلے گئے جسے غیبت کبریٰ کہتے ہیں اس دوران انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا اور ان کا ظہور حدیث کے مطابق قیامت کے قریب ہوگا۔
امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی بے شمار علامات کتب اھل سنت اور اھل تشیع دونوں میں ملتی ہیں۔ ان میں سے بہت سی پوری بھی ہو چکی ہیں۔ ان علامات میں سے کچھ حتمی ہیں اور کچھ غیر حتمی۔ حتمی علامات سے مراد وہ علامات ہیں جن کا بروایتے پورا ہونا ضروری ہے۔ کچھ ان کے ظہور سے کافی پہلے وقوع پذیر ہونگی اور کچھ ظہور کے نزدیک۔ یہاں ان میں سے کچھ درج کی جاتی ہیں۔
سب سے مشہور علامت دجال کا خروج ہے۔ مغربی مفکر اسے عیسی علیہ السلام کا مخالف (Antichrist) کہتے ہیں۔ یہ ذکر تورات میں بھی ملتا ہے۔
سورج کا مغرب سے طلوع ہونا۔ یعنی زمین کی گردش میں فرق متوقع ہے۔ علم نجوم و فلکیات کے برخلاف رمضان کی پہلی رات کو چاند گرہن اور پندرہ کو سورج گرہن لگے گا۔
سفیانی کا خروج۔ یہ ابو سفیان کی اولاد سے ایک شخص ہوگا اور ماں کی طرف سے بنو کلب سے ہوگا۔ جو بے شمار لوگوں کو قتل کرے گا۔ اس کا پورا لشکر بیداء کے مقام پر زمین میں دھنس جائے گا۔ بیدا مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔ مشرق کی طرف سے ایک عظیم آگ کا تین یا سات روز تک جاری رہنا۔ بغداد اور بصرہ کا تباہ ہونا۔ اور عراق پر روپے اور غلہ کی پابندی لگنا امام مہدی علیہ السلام کا ظہور مکہ سے ہوگا اور لوگ رکن و مقام کے درمیان ان کی بیعت کریں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوگا اور وہ امام مہدی علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ دجال کا قتل ہوگا اور بیت المقدس فتح ہوگا۔
.......
/169