30 جون 2012 - 19:30

عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت میں غیر معمولی کمی کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے۔

ابنا: ایران کے وزیر پیٹرولیم رستم قاسمی نے اوپیک کے ڈائریکٹر جنرل عبدالہ البدری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اوپیک کا ہنگامی اجلاس بلائے جانےکے لۓ ضروری اقدامات انجام دیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران ، عراق ، سعودی عرب ، کویت ، وینیزویلا ، قطر ، لیبیا ، متحدہ عرب امارات ، الجزائر ، نائجیریا ، انگولا اور اکواڈور اوپیک تنظیم کے رکن ممالک ہیں۔ ویانا میں اوپیک کے رکن ممالک کے وزرائے پیٹرولیم کے اجلاس کے بعد سے تیل کی قیمت میں مسلسل کمی آتی جارہی ہے اور حالیہ چند مہینوں کے دوران تیس ڈالر کی کمی کے بعد ہر بیرل تیل کی قیمت تقریبا نوے ڈالر کی کم ترین سطح پر آچکی ہے۔ ماہرین کی تحقیقات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ بعض ممالک خاص کر سعودی عرب کی جانب سے خام تیل کا بےتحاشا نکالا جانا عالمی منڈی کے عدم استحکام اور تیل کی قیمت میں کمی کا سبب بنا ہے۔ اوریہ چیز اوپیک کے مقاصد سے میل نہیں کھاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات پورے طور پر عیاں ہے کہ سعودی عرب امریکی پالیسی کے تحت خام تیل کی قیمت کو کم کرنے کے درپے ہے اور سعودی عرب کے اس اقدام سے اوپیک کے رکن ممالک کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچتا ہے۔ سعودی عرب کے وزیر پیٹرولیم نے اوپیک کے ایک سو اکسٹھویں اجلاس کے موقع پر باضابطہ طور پر عالمی اقتصاد میں بہتری لانے کے بہانے تیل کی عالمی قیمت میں کمی کا مطالبہ کیا تھا۔ حتی انھوں نے عالمی منڈیوں میں فی بیرل تیل کی قیمت پچاس سے ساٹھ ڈالر تک کۓ جانےکی بات کی تھی۔ اوپیک کے رکن ممالک کے حالیہ اجلاس سے قبل تک اس تنظیم کی تیل کی روزانہ مجموعی پیداوار تقریبا تینتیس ملین بیرل تھی جو اوپیک کے فیصلے کے بعد تیس ملین بیرل تک کردی گئي۔ اوپیک کے اراکین نے ویانا میں بلائے جانےوالے ایک سو اکسٹھویں اجلاس میں روزانہ تیس ملین بیرل تیل کی پیداوار برقرار رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔اور اسی اجلاس میں یہ بھی طے پایا تھا کہ جو ممالک عملی طور پر زیادہ مقدار میں تیل نکال رہے ہیں وہ تیل کی پیداوار میں کمی کر کے اپنے وعدے پر عمل کریں۔ موسم گرما میں تیل کی طلب میں کمی کی وجہ سے عام طور پر اس کی قیمت میں اتاڑ چڑھاؤ آتا ہے لیکن موسم سرما میں تیل کی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے۔البتہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف لگائي جانے والی پابندیوں اور ایران کےتیل کے بائیکاٹ کے موثر ہونے پر مبنی یورپ کے پروپیگنڈے کے باوجود ایران کا تیل عالمی منڈیوں میں بدستور فروخت ہورہا ہے اور جیسا کہ ایران کے وزیر پیٹرولیم نے کہا ہےکہ یورپ کو ایران کے تیل کے ایک حصے کی برآمد بند کۓ جانے کے باوجود ایران کی پیٹرولیم مصنوعات دنیا کے تمام ممالک کو برآمد کی جارہی ہیں۔ اور اس سلسلےمیں ایران کو کوئي مشکل درپیش نہیں ہے۔ البتہ ایران کے خلاف لگائی جانے والی غیر قانونی اور عالمی تجارت کے منافی پابندیوں کے منفی اثرات تیل تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ جیسا کہ پیرس کے اجلاس میں انٹر نیشنل چیمبر آف کامرس کے اراکین نے زور دے کر کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف یورپی سیاستدانوں کا یکطرفہ رویہ عالمی اقتصادی مشکلات میں اضافے کا سبب بنا ہے۔ انٹر نیشنل چیمبر آف کامرس کے ڈائریکٹر جان کاری یر نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف لگائی جانے والی پابندیوں کو انٹر نیشنل چیمبر آف کامرس کی پالیسیوں سے متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی حالت میں کہ جب دنیا کے تمام ممالک اقتصادی بحران کا شکار ہیں اس طرح کی پابندیاں مشکلات میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ مجموعی طور پر ان تمام امور کے پیش نظر توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بے تحاشا پیداوار اور امریکہ کی یکطرفہ غیر قانونی پابندیوں کے ذریعے تیل کی عالمی منڈی میں خلل پیدا کرنے کے منفی نتائج برآمد ہوتے ہیں خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ یورپ کو شدید اقتصادی بحران کا سامنا ہے اور ترقی پذیر ممالک کو بھی معاشی بحران سے نجات اور اپنی اقتصادی ترقی کے لۓ توانائی کے ذخائر تک براہ راست اور قابل اطمینان رسائی کی ضرورت ہے۔....... /169