ابنا: اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی نائب وزیر دفاع پیٹر لیووئی پاکستان کی خارجہ۔ دفاع اور خزانہ وزارت خانوں کے حکام سے ملاقات اور دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے طریقوں کا جائزہ لینے کے مقصد سے پاکستان کے دورے پر ہیں۔ حکومت پاکستان سے وابستہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی نائب وزیر دفاع پیٹر لیووئی کے دورۂ اسلام آباد سے قبل پاکستان اور امریکہ کے بعض عہدیداروں کے درمیان نیٹو سپلائی ٹیکس کے حوالے سے مذاکرات ہوئے تھے جو ناکام ہوگئے ہیں۔ دو ہفتے قبل امریکی وزیر دفاع لئون پنیٹا نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے نیٹو سپلائی کی بحالی کیلئے پاکستان کی جانب سے لگائے جانے والے نئے ٹیکس کو نادرست قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے جنگی اخراجات میں مزید اضافہ ہوگا ۔ اس سے قبل پاکستان نیٹو سپلائی کیلئے فی ٹرک دو سو پچاس ڈالر حاصل کرتا تھا۔ امریکی نائب وزیر دفاع پیٹر لیووئی کا دورۂ پاکستان ایسے میں انجام پایا ہے کہ امریکی وزیر دفاع لئون پنیٹا کے ایک بیان سے پاکستان امریکہ تعلقات کشیدگی کے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع نے ہندوستان کے دورے کے بعد کابل میں ایک بیان میں کہا تھا کہ وہائٹ ہاؤس پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور اس ملک میں جاری انتہا پسندانہ سرگرمیوں کو اب اس سے زیادہ برداشت نہیں کرسکتا جس پر پاکستان کے حکام اور واشنگٹن میں پاکستان کی سفیر نے شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں امریکی وزیر دفاع لئون پنیٹا کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لئون پنیٹا نے معاملے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے جس سے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں ۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد بارہا اعلان کرچکا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیگا اور نہ ہی پاکستان کو دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ بننے دیا جائیگا اور یہ کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ قومی مفاد میں لڑی جارہی ہے اور اسلام آباد نے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے موثر حکمت عملی اپنائی ہے۔ چنانچے پاکستان کے خلاف امریکی وزیر دفاع لئون پنیٹا کے سخت بیان کے بعد امریکی نائب وزیر دفاع کا دورۂ پاکستان مبصرین کی نظر میں اس بات کا ترجمان ہے کہ واشنگٹن، اسلام آباد کو اپنی پالیسیوں کا ہمنوا بنانے کیلئے ایک ہی وقت میں مذاکرات اور پاکستان پر دباؤ کی پالیسی پر عمل کررہا ہے ۔ .......
/169