6 جون 2012 - 19:30

سنہ انیس سو سڑسٹھ کی چھ روزہ جنگ کے دوران صہیونی ریاست کے ہاتھوں عربوں کی شکست کو پینتالیس سال ہورہے ہیں جس کے دوران اسرائيل نے فلسطینیوں کی باقی سرزمین پر بھی قبضہ کر لیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ صہیونی ریاست کی جانب سے سامراجی اور توسیع پسندانہ اہداف کو حاصل کرنے کی کوششیں مسلسل جاری رہیں اور یہ سلسلہ انیس سو اڑتالیس سے لے کر آج تک رکا نہیں ہے۔

ابنا: صہیونی ریاست کے ہاتھوں اس چھ روزہ جنگ میں عرب حکومتوں کی شکست اور بعض عرب حکومتوں کے صہیونی ریاست سے مرعوب ہو جانےکے باوجود عرب اقوام اور فلسطینی باشندوں نے نہ صرف صہیونی ریاست کی پالیسیوں کو ہرگز قبول نہیں کیا بلکہ ہمیشہ اس غاصب حکومت کے مقابلے میں ثابت قدمی اور استقامت جاری رکھنے پر تاکیدکی ہے۔

ان دنوں صہیونی ریاست کے قبضے کی مذمت کی مناسبت سے صہیونیوں کے خلاف فلسطینی عوام کے مظاہروں کا سلسلہ ایسی حالت میں جاری ہے کہ جب فلسطین کے جہادی گروہ بھی فلسطینیوں کے حقوق کی بازیابی اور ان کے ملک کو صہیونی ریاست کے قبضے سے آزاد کرانے پر تاکید کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے حق پر تاکید کی ہے۔ اس سلسلے میں حماس کے ایک سینئر رکن محمود الزھار نے کہا ہے کہ فلسطینی سرزمین فلسطینیوں کا حق ہے اور قابضوں کو اس سرزمین سے نکل جانا چاہۓ۔ صہیونی ریاست  کے قبضے کے نتیجے میں تقریبا پانچ ملین فلسطینی اپنے گھربار چھوڑ کر دنیا کے دوسرے علاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

Palestinian National initiativeکے سیکرٹری جنرل مصطفی برغوثی نے بھی فلسطینیوں کے مکمل حقوق کی بازیابی تک ملت فلسطین کی استقامت جاری رہنے پر تاکید کی ہے۔ مصطفی برغوثی نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہےکہ وہ فلسطینی سرزمینوں پر غاصب صہیونی ریاست کے قبضے کے خاتمے اور فلسطینیوں کو قدس شریف کے دارالحکومت کے ساتھ آزاد فلسطینی مملکت کی تشکیل سمیت ان کے جائز حقوق دلانے کے سلسلے میں اپنی انسانی اور اخلاقی ذمے داریاں پوری کرے۔

مصطفی برغوثی نے تاکید کی ہے کہ ملت فلسطین غاصب اسرائيل کے خلاف اپنی عوامی استقامت کو جاری رکھے گی اور اس حکومت کے تسلط اور منہ زوری کے سامنے کبھی بھی گھٹنے نہیں ٹیکے گي۔

فلسطینی قیدیوں کے امور کے انچارج عبدالناصر فروانہ نےبھی تاکید کی ہے کہصہیونی ریاست فلسطینیوں کی گرفتاریوں اور ان کے خلاف غیر انسانی اقدامات انجام دینے سمیت اپنی تمام تر تشدد آمیز پالیسیوں کے باوجود فلسطینی استقامت کو ناکام بنانے سے متعلق اپنا کوئي ایک ہدف بھی حاصل نہیں کرسکی ہے۔ ......./169