4 جون 2012 - 19:30

چین کی حکومت کے ایک اعلی عہدیدار نائی یوۓ گانگ نے کہا ہے کہ بیجنگ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر کے دورۂ چین کے لۓ بہت زیادہ اہمیت کا قائل ہے۔

ابنا: نائی یوۓ گانگ نے ارنا سے گفتگو کرتے ہوۓ مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے دورۂ چین سے مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں استحکام آۓ گا۔ نائی یوۓ گانگ نے اسلامی جمہوریہ ایران اور چین کی قوموں اور ذرائع ابلاغ کے زیادہ سے زیادہ باہمی رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوۓ کہا کہ تہران اور بیجنگ کو تجارتی اور سیاسی تعلقات میں توسیع کے علاوہ ثقافتی تعلقات پر بھی توجہ دینی چاہۓ۔

چين کی سماجی علوم کی اکیڈمی کے مغربی ایشیا اور یورپی امورکے اسٹڈیز سنٹر کے ایک سینئر محقق این گانگ نے بھی ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے دورہ چین کے بارے میں کہا ہےکہ اسلامی جمہوریہ ایران کا دورۂ چین دونوں ممالک کے تعلقات میں توسیع کے لۓ ایک سنہری موقع ہے۔ این گانگ نے مزید کہا کہ چین نے بارہا یورپ کی تہران مخالف یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ اور اس بات پر تاکید کی ہے کہ وہ ایران کے تیل کے بائیکاٹ کو تسلیم نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد ایک اعلی سطحی وفد کے ساتھ چین کے صدر ہوجن تاؤ کی دعوت پر منگل کی رات کو بیجنگ پہنچیں گے۔

صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد اس دورے کے موقع پر چین کے صدر سے ملاقات اور باہمی دلچسپی اور اہم عالمی امور پر تبادلۂ خیالات کے علاوہ شنگھائی تعاون تنظیم کے دسویں سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔....... /169