اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی – ابنا – کی رپورٹ کے مطابق اہل بیت (ع) کے پیروکاروں کے عقائد اور تعلیمات کی رو سے مہدویت کی بحث اور حضرت مہدی (عج) کی ولادت، زندگی، غیب صغرا، غیبت کبری، ظہور اور اس کے شرائط اور امام (عج) کے صحابیوں وغیرہ جیسے موضوعات کا شمار اسلامی تاریخ کے مسلمات میں ہوتا ہے جن پر قرآن مجید کی متعدد آیات اور معصومین علیہم السلام کی بے شمار روایات نہایت واضح طور پر دلالت کرتی ہیں۔
مہدویت کی بحث تمام اسلامی فرقوں کے درمیان ہمیشہ سے موجود چلی آرہی ہے۔ اب تک اس کے بارے میں بہت سے نظریات اور باتیں سامنے آچکی ہیں۔ اس موضوع کو اسلامی اور غیر اسلامی دانشوروں نے اپنی کتابوں، مقالات اور تقاریر میں جگہ دی ہے۔
کتاب "الامام المہدی (عج) عند اہل السنۃ" کے مصنف شیخ مہدی فقیہ الایمانی نے حضرت مہدی (عج)، آپ کی ولادت اور ظہور کے بارے میں اہل سنت کی کتب اور ان کے نقطہ ہائے نظر کو اکھٹا کرکے قابل اشاعت صورت دی ہے۔
کتاب کے پیش لفظ میں ہم یوں پڑھتے ہیں: اب تک تاریخ اسلام کے متعدد مسائل کی تحریف کی جاچکی ہے۔ تاریخ نگاروں اور حدیثوں کو حیطہ تحریر میں لانے والوں کے درمیان جھوٹے افراد اور جعلی حدیثیں بنانے والوں نے اپنے سیاسی مقاصد اور برسر اقتدار حکماء کی فرمائش پر اسلام کے انتہائی بنیادی مسائل کو الٹا دکھانے کی کوشش کرکے انہیں شک و تردید سے دچار کر دیا ہے ۔ حضرت مہدی (عج) کی ولادت، غیبت اور ظہور کا مسئلہ انہی میں سے ایک ہے جس کا ذکر پیغمبر اسلام (ص) کے بیانات اور دیگر اسلامی پیشواؤں کی باتوں میں صاف طور پر دکھائی دیتا ہے اور جس کا انکار کسی سے ممکن نہیں ہے۔اس کتاب میں گزشتہ بارہ صدیوں کے دوران حضرت مہدی (عج)، آپ کی ولادت، غیبت اور ظہور کے بارے میں بزرگان حدیث کے نقطہ ہائے نظر اور برادران اہل سنت کی تاریخ سے متعلق اسلامی منابع کی متعدد صفحات پیش کرتے ہوئے مذکورہ موضوع کی وضاحت کی گئی ہے۔
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی ترسیل و اشاعت کی بنا اب تک قابل ذکر تعداد میں کتاب "الامام المہدی (عج) عند اہل السنۃ"کی دو مرتبہ اشاعت کے فرائض انجام دے چکی ہے۔ تیسرا ایڈیشن 672 صفحات پر مشتمل ہے جو اسمبلی کے تعاون سے اسی سال موسم گرما میں لبنان سے چھپ کر لوگوں میں بانٹ دیا گیا۔.......
/169