ابنا: ایک ایسے وقت میں کہ جب امریکہ نے افغانستان میں قیام امن، اس ملک کی سکیورٹی مشکلات کو حل کرنے اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے بہانے دو ہزار ایک میں اس ملک پر قبضہ کیا تو دو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی نہ صرف افغانستان کی مشکلات حل نہیں ہوئيں بلکہ افغان حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اس ملک کے مستقبل کے بارے میں تشویش لاحق ہے۔ افغانستان قومی محاذ کے سربراہ احمد ضیا مسعود کا یہ بیان اسی تناظر میں قابل غور ہے کہ طالبان نے دو ہزار چودہ تک جہادی رہنماؤں کو قتل کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ احمد ضیا مسعود نے دو جہادی کمانڈروں جنرل داؤد اور شاہ جہاں نوری کے قتل کی برسی کے موقع کابل میں تقریر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ افغان حکومت کی پالیسی طالبان کے ساتھ تعاون پر استوار ہے۔افغانستان کے نائب صدر محمد قاسم فہیم نے بھی اس برسی کے پروگرام میں کہا کہ طالبان ایک زمانے میں لوگوں پر ظلم کر رہے تھے اور اب جب کہ وہ اقتدار میں نہیں ہیں تو جہادی شخصیات اور لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔دوسری جانب امریکہ افغانستان پر ایک دہائی تک قابض رہنے اور اس ملک کے عوام کا قتل عام کرنے کے بعد اب طالبان گروہ سے مصالحت کرنا چاہتا ہے وہ گروہ کہ جو افغان حکومت اور حکام کے خیال میں عوام اور جہادی رہنماؤں کے خلاف اپنے تشدد آمیز اقدامات بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ افغان عوام کی خواہشات کو پیش نظر رکھے بغیر اور اس ملک کی حاکمیت اور استقلال کو پامال کر کے اپنی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کے مطابق افغانستان کے مستقبل پر اثرانداز ہونا چاہتا ہے کہ جو افغان عوام کی نظر میں ناقابل قبول ہے۔دوسری جانب افغان وزارت دفاع نے افغانستان کی سکیورٹی فورسز خصوصا فضائيہ کو جدید بنانے میں نیٹو کے تساہلی اور عدم دلچسپی پر شدید تنقید کی ہے۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ فضائیہ کے پرانے اور فرسودہ طیارے اور ہیلی کاپٹر اور ان کی کم تعداد حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دو ہزار ایک میں ہونے والی بون کانفرنس کے فیصلے کے مطابق افغانستان پر قابض طاقتوں کو افغان فوج اور پولیس کو مسلح کرنے اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے اقدام کرنا چاہیے تھا لیکن انہوں نے نہ صرف یہ کام نہیں کیا بلکہ انہوں نے جان بوجھ کر انہیں کمزور رکھا تاکہ وہ امریکی اور نیٹو فورسزکی محتاج رہیں۔صوبہ پکتیا میں بےگناہ افغانوں پر نیٹو کے ہوائي حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کے نزدیک افغان عوام کی جانوں کی کوئي اہمیت نہیں ہے اور وہ اپنے حملے بدستور جاری رکھیں گے۔افغانستان اور اس کا مستقبل
افغانستان کے سرکاری اور سیاسی حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں افغانستان کے مستقبل کے بارے میں سخت تشویش ہے۔ایک ایسے وقت میں کہ جب امریکہ نے افغانستان میں قیام امن، اس ملک کی سکیورٹی مشکلات کو حل کرنے اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے بہانے دو ہزار ایک میں اس ملک پر قبضہ کیا تو دو سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی نہ صرف افغانستان کی مشکلات حل نہیں ہوئيں بلکہ افغان حکام کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں اس ملک کے مستقبل کے بارے میں تشویش لاحق ہے۔ افغانستان قومی محاذ کے سربراہ احمد ضیا مسعود کا یہ بیان اسی تناظر میں قابل غور ہے کہ طالبان نے دو ہزار چودہ تک جہادی رہنماؤں کو قتل کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ احمد ضیا مسعود نے دو جہادی کمانڈروں جنرل داؤد اور شاہ جہاں نوری کے قتل کی برسی کے موقع کابل میں تقریر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ افغان حکومت کی پالیسی طالبان کے ساتھ تعاون پر استوار ہے۔افغانستان کے نائب صدر محمد قاسم فہیم نے بھی اس برسی کے پروگرام میں کہا کہ طالبان ایک زمانے میں لوگوں پر ظلم کر رہے تھے اور اب جب کہ وہ اقتدار میں نہیں ہیں تو جہادی شخصیات اور لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔دوسری جانب امریکہ افغانستان پر ایک دہائی تک قابض رہنے اور اس ملک کے عوام کا قتل عام کرنے کے بعد اب طالبان گروہ سے مصالحت کرنا چاہتا ہے وہ گروہ کہ جو افغان حکومت اور حکام کے خیال میں عوام اور جہادی رہنماؤں کے خلاف اپنے تشدد آمیز اقدامات بدستور جاری رکھے ہوئے ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ افغان عوام کی خواہشات کو پیش نظر رکھے بغیر اور اس ملک کی حاکمیت اور استقلال کو پامال کر کے اپنی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کے مطابق افغانستان کے مستقبل پر اثرانداز ہونا چاہتا ہے کہ جو افغان عوام کی نظر میں ناقابل قبول ہے۔دوسری جانب افغان وزارت دفاع نے افغانستان کی سکیورٹی فورسز خصوصا فضائيہ کو جدید بنانے میں نیٹو کے تساہلی اور عدم دلچسپی پر شدید تنقید کی ہے۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا ہے کہ فضائیہ کے پرانے اور فرسودہ طیارے اور ہیلی کاپٹر اور ان کی کم تعداد حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بن گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دو ہزار ایک میں ہونے والی بون کانفرنس کے فیصلے کے مطابق افغانستان پر قابض طاقتوں کو افغان فوج اور پولیس کو مسلح کرنے اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے اقدام کرنا چاہیے تھا لیکن انہوں نے نہ صرف یہ کام نہیں کیا بلکہ انہوں نے جان بوجھ کر انہیں کمزور رکھا تاکہ وہ امریکی اور نیٹو فورسزکی محتاج رہیں۔صوبہ پکتیا میں بےگناہ افغانوں پر نیٹو کے ہوائي حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور نیٹو کے نزدیک افغان عوام کی جانوں کی کوئي اہمیت نہیں ہے اور وہ اپنے حملے بدستور جاری رکھیں گے۔ ......./169