ابنا: موصولہ رپورٹ کے مطابق شکاگو ميں ہونے والے ان مظاہروں ميں جنگ مخالف گروہوں نے نيٹو کے عہديداروں سے مطالبہ کيا کہ وہ عراق اور افغانستان ميں ہونے والے جنگي جرائم کا جواب ديں- مظاہروں ميں بڑي تعداد ميں امن کارکنوں، سابق فوجيوں اور اقتصادي ناانصافي و عدم مساوات پر اعتراض کرنے والے افراد نے شرکت کي- بعض مقامات پر مظاہرين اور پوليس کے درميان جھڑپيں بھي ہوئي ہيں- مظاہرين امريکي صدر باراک اوباما کي قيامگاہ کي طرف جانا چاہ رہے تھے تاہم پوليس نے تشدد کا استعمال کرکے انہيں روک ديا-پوليس اور مظاہرين کے درميان جھڑپ بھي ہوئي ہے جس ميں بہت سے مظاہرين شديد زخمي ہو گئے اور کئي مظاہرين کے سر اور چہرے سے خون بہنے لگا- شکاگو کي پوليس نے ايک پريس کانفرنس ميں اعلان کيا ہے کہ نيٹو کے اجلاس کے قريب ہونے والے مظاہرے سے پينتاليس افراد کو گرفتار کيا گيا ہے جبکہ چار پوليس اہلکار بھي زخمي ہوئے ہيں-اس رپورٹ کے مطابق سيکڑوں مظاہرين نے شکاگو آرٹ سينٹر کے سامنے بھي مظاہرہ کيا جہاں امريکا کي خاتون اول ميشل اوباما نيٹو کے سربراہي اجلاس ميں شرکت کرنے والوں کي بيويوں کي ميزباني کر رہي تھيں- مظاہرين نے نعرے لگا کر نيٹو کو تحليل کيے جانے کا مطالبہ کيا-......./169
20 مئی 2012 - 19:30
News ID: 316727
ہزاروں امريکيوں نے حاليہ برسوں کے دوران ہونے والے ايک سب سے بڑي جلوس ميں، شکاگو ميں نيٹو کے سالانہ اجلاس کے محل وقوع کے سامنے مظاہرے کرکے جنگ پسندي سے اپني نفرت کا اظہار کيا ہے-