ابنا: اس اجلاس میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور افغانستان کے صدر حامد کرزئی بھی شریک ہیں تاکہ افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد وہاں کی سیکیورٹی کی صورت حال کا جائزہ لئے جانے میں اپنی شراکت رکھہ سکیں تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس اجلاس میں شریک نیٹو کے رکن ملکوں کے نمائندوں کا مقصد اس تنظیم کو اس کے منظور نظر مشن سے منطبق کرنا ہے ۔اسی تناظر میں نیٹو کے بجٹ کی فراہمی بھی کہ جس نے اپنی کاروائی کا دائرہ عالمی سطح پر کافی پھیلا دیا ہے شیکاگو مذاکرات میں خاص اہمیت کی حامل ہے ۔ عالمی معاشی بحران کی بناء پر نیٹو کے بجٹ کی فراہمی میں کافی مسائل کا سامنا ہے اسلئے کہ نیٹو کے بیشتر یورپی رکن ممالک یورو کے حلقے میں شامل ہیں کہ جن میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو سقوط کے دہانے پر جاکھڑے ہوئے ہیں اور ان میں ایک ہالینڈ بھی ہے جس نے اقتصادی مسائل کی بناء پر نیٹو کے مشن پر اپنے فوجی روانہ کرنے کا کوٹہ چھٹے حصّے تک محدود کردیا ہے اور اس نے اپنے ٹینک بھی واپس منگوا لئے ہیں ۔بجٹ خسارے کی بناء پر امریکہ کیلئے بھی نیٹو کے بجٹ میں اپنی شراکت کی سطح باقی رکھنے میں کافی مسائل کا سامنا ہے۔ نیٹو کو بجٹ فراہم کرنے والے ایک اہم ملک کی حیثیت سے امریکہ کا بجٹ خسارہ 14 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے جو اس ملک کی پوری اندرونی ناخالص پیداوار کے برابر ہے ۔ ایک عشرے قبل تک امریکہ، نیٹو کا 50 فیصد بجٹ فراہم کرتا تھا مگر اب یہ 75 فیصد تک جاپہنچا ہے اور یہ اضافہ ایسی صورت میں ہوا ہے کہ ایک طرف دنیا میں نیٹو کی مداخلت بڑہٹی چلی گئی ہے اور دوسری طرف امریکہ کے بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے سے اس ملک کی معیشت پر بہت زیادہ منفی اثرات مرّتب ہورہے ہیں ۔ امریکہ ایسی حالت میں نیٹو کے بجٹ کی فراہمی میں اپنی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے کہ کینیڈا نے جو 1949 میں نیٹو کے پہلے بانی رکن ملکوں میں سے ہے جنگ افغانستان اور اس ملک پر قبضے کے برسوں میں مالی اعتبار سے کوئی شراکت نہیں رکھی ہے ۔کینیڈا کے وزیر اعظم اسٹیفن ہارپر پر شیکاگو میں اس بات کا شدید دباؤ ہے کہ ان کا ملک، افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد افغان فوج اور سیکیورٹی فورسیز کو فراہم کئے جانے والے سالانہ 4 ارب ڈالر کے بجٹ میں اپنا اہم کردار ادا کرے۔ جنگ افغانستان کو چھوڑ کر نیٹو کو یورپ میں بلسٹیک میزائل دفاعی نظام کے قیام میں بھی ہونے والے اخراجات کی فراہمی کیلئے بہت بڑے بجٹ کی ضرورت ہے اور امریکہ یہ چاہتا ہے کہ نیٹو کے یورپی رکن ممالک اس منصوبے کو کہ جسے وہ اپنی اندرونی کاروائی کی توانائی سے تعبیر کرتے ہیں ایک قومی منصوبہ سمجھیں اور اپنے دفاعی بجٹ کا ایک حصّہ اس منصوبے پر آنے والے اخراجات پر صرف کریں جبکہ یورپی ممالک امریکہ کے اس مطالبے کا مثبت جواب دینے کی توانائی نہیں رکھتے ۔چنانچـے اب یہ دیکھے جانے کی ضرورت ہے کہ نیٹو کے رکن اور اس تنظیم کے ساتھہ تعاون کرنے والے 60 ممالک، اس مسئلے کے حل کیلئے کیا تدبیر نکالتے ہیں ؟۔...../169
19 مئی 2012 - 19:30
News ID: 316513
شیکاگو میں نیٹو کا 25 واں سربراہی اجلاس شروع ہوگیا۔ اس اجلاس میں نیٹو کے 28 رکن ملکوں کے راہنماؤں کے ساتھہ ساتھہ 30 سے زائد ملکوں کے نمائندے بھی شریک ہیں۔اس دو روزہ اجلاس کا مقصد افغانستان اور اس ملک کی سیکیورٹی کی صورت حال کا جائزہ لینا اعلان کیا گیا ہے ۔