10 مئی 2012 - 19:30

سیدہ نے فرمایا: خدا کی قسم! میں تم پر ہر نماز میں جو میں ادا کرتی ہوں، نفرین کروں گی / ابن قتیبہ: خلیفہ سیدہ (س) کے گھر سے نکلے تو کہنے لگے: اے لوگو! تم سب راتوں کو اپنی بیویوں کے ساتھ اپنی خوشیوں میں مصروف ہو اور مجھے اس مصیبت سے دوچار کرچکے ہو؛ مجھے تمہاری بیعت نہیں چاہئے؛ آؤ اپنی بیعت واپس لو اور مجھے مقام خلافت سے معزول کرو...

حدیث "لا نورث، ما ترکناہ صدقۃ" کا افسانہ ـ 2

اب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ حدیث انتی ہی تھی کہ "لا نورث ما ترکنا صدقةً" يا "لا نورث ما ترکناه صدقةً" اور "نحن معاشر الانبياء" والا حصہ بعد میں اس میں ضمیمہ کیا گیا ہے اور اس موضوع کا گذشتہ انبیاء سے کوئی تعلق نہيں تھا۔ یقیناً ہمارے قارئین بھی ہماری اس رائے سے اتفاق کریں گے کہ حدیث کے معنی یہ ہیں کہ "صدقہ ارث اور ترکے کی حیثیت سے وارثین کے لئے نہیں چھوڑا جاسکتا" اور یہ معنی امر عام ہے جو صدقے کی کسی خاص قسم میں منحصر نہيں ہے بلکہ صدقات کے تمام اقسام اس میں شامل ہیں... (54)

حدیث کے متن میں غرابت

ابوبکر الجوہری نے اپنی کتاب "السقیفہ" میں ان موضوعات پر بحث کی ہے جن کا تعلق سقیفہ سے ہو یا ان امور کے بارے میں جو سقیفہ کے بعد اہل اسلام کے دامنگیر ہوا۔ وہ اس حدیث کے بارے میں صراحت سے کہتے ہیں کہ اس کے متن میں غرابت ہے اور بلاغت کے قواعد سے سازگار نہيں ہے۔ (55)

اب ثابت ہوچکا ہے کہ یہ حدیث صرف اور صرف خلیفہ اول سے نقل ہوئی ہے اور اس کا کوئی دوسرا راوی نہیں ہے بلکہ دوسرے راویوں نے بھی خلیفہ اول سے نقل کی ہے اور اہل سنت کے علماء اور فقہاء نے بھی اس حدیث کو قابل استناد نہيں سمجھا ہے اور سب اعتراف کرتے ہیں کہ یہ حدیث قرآنی نصوص سے متصادم ہے۔

دو معصومین یعنی حضرت علی اور حضرت زہراء سلام اللہ علیہما نے ابوبکر سے فدک نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ترکے کا مطالبہ کیا اور یوں اس حدیث کا اعتبار ابتدائی مرحلے میں ہی ختم ہوکر رہ گیا۔

خلیفہ اول نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذاتی اشیاء علی علیہ السلام کے حوالے کردیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زوجات یعنی امہات المؤمنین سے رسول اللہ (ص) کی املاک خالی کرنے کی درخواست نہیں کی اور خود ام المؤمنین عائشہ کے گھر میں ـ جو رسول اللہ (ص) کا ترکہ تھا اور خود بھی اس کو رسول اللہ (ص) کا ترکہ سمجھ رہے تھے ـ دفن ہوئے؛ چنانچہ وہ خود تین اہم مقامات پر خود خود اس حدیث میں استثنی کے قائل ہوئے چنانچہ اس حدیث کی حیثیت جاتی رہی۔

اس حدیث میں ادبی اور نحوی لحاظ سے سقم ہے اور اس کا تعلق انبیاء علیہم السلام کے ترکے سے نہيں بنتا بلکہ اگر اس کو صحیح سمجھا جائے تو صدقات کو ارث سے مستثنی کرے گی۔

خلیفہ ثانی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ترکے کا کچھ حصہ امیرالمؤمنین (ع) اور آپ کے چچا عباس کو دے دیا؛ اور یوں حدیث مزید متنازعہ بن گئی۔

عمر بن عبدالعزیز نے تخت حکومت سنبھالتے ہی ظلم و جبر کے ذریعے چھینے گئے امول و املاک واپس کرنے کا اعلان کیا اور فدک اولاد فاطمہ سلام اللہ علیہا کے حوالے کیا اور کہا کہ یہ ان کے پاس تھا اور ان سے چھینا گیا تھا اور اب میں اسے اس کے اصل مالکوں کو واپس کررہا ہوں اور انھوں نے کہا کہ سیدہ (س) نے فدک کی ملکیت کا دعوی دائر کیا تھا اور آپ (ص) رسول اللہ (ص) پر جھوٹ نہيں باندھ سکتیں چنانچہ آپ (س) اپنے دعوی میں حق بجانب تھیں۔

فدک کئی بار اولاد فاطمہ کو لوٹایا گیا اور تاریخ کے تمام مراحل میں متنازعہ رہا لیکن فدک اہل بیت کو لوٹائے جانے کے مخالفین تک نے اس حدیث سے استناد نہيں کیا کیونکہ اسلامی کی پہلی صدیوں میں ہی اس حدیث کی متنازعہ حیثیت عیاں ہوچکی تھی اور کوئی بھی ایسا نہ تھا جو اس کو حدیث نبوی کی حیثیت سے تسلیم کرتا۔

غالب خیال یہ ہے کہ جب خلیفہ اول نے فدک کو ارث قرار دیا اور اور پھر رسول اللہ (ص) کے ارث کو صدقہ قرار دلوانے کے لئے یہ عبارت کہہ سنائی کہ "انا لانورث ..." تو چونکہ اس سے مسلمانوں کے اموال کے بارے میں فیصلہ مشکل ہونے لگا تھا چنانچہ اس کے آغاز میں "انا معاشر الانبیاء" کا اضافہ کیا گیا تاکہ نفی ارث کا مسئلہ انبیاء تک محدود ہوجائے جبکہ قرآن کی آیات اس جملے کو رد کررہی تھیں اور مسلمانوں سے ارث کی نفی کا حکم بھی قرآن کی صریح آیات سے متصادم تھا۔

چنانچہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یہ حدیث بھی افسانۂ غرانیق اور گستاخان رسول (ص) کی تحریروں کا سرچشمہ بننے والے دوسرے افسانوں کی مانند ایک افسانہ تھی جو غصب فدک کی توجیہ اور اہل بیت رسول (ص) کی اقتصادی قوت چھیننے کے لئے گڑھ لی گئی تھی اور اس حدیث پر اعتماد اس ظلم و ستم کا تسلسل ہے جو رسول اللہ (ص) کی اکلوتی وارث پر روا رکھا گیا اور پروردگار کے حکم کی پامالی کا تسلسل ہے جو ارشاد فرماتا ہے:

قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَیهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَى(56)

ترجمہ: کہئے کہ میں تم سے اس (رسالت و نبوت) پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا سوا صاحبان قرابت (اہل بیت علیہم السلام) کی محبت کے۔

فدک کے نکتے:

غصب فدک کی وجہ کیا تھی؟

مذکورہ بالا سطور میں اس سوال کا جواب بھی ضمنی طور پر دیا گیا لیکن اہل سنت کے بڑے عالم ابن ابی الحدید المعتزلی نے اس کا جواب بہت خوبصورت انداز میں ایک بغدادی استاد سے نقل کرکے بیان کیا ہے جو بظاہر طنزیہ لب و لہجے میں ہے لیکن اس کے ضمن میں حقیقت کو بڑے واضح اور خوبصورت انداز سے بیان گیا ہے؛ لکھتے ہيں:

میں نے بغداد کے مغربی مدرسے کے مدرس "علی بن الفارقی" سے پوچھا:

کیا (فدک کے سلسلے میں) فاطمہ (س) سچ بول رہی تھیں؟

مدرس نے کہا: جی ہاں! وہ سچ بول رہی تھیں۔

میں نے کہا: اگر وہ سچ بول رہی تھیں تو ان لوگوں نے فدک ان کو لوٹایا کیوں نہيں؟

مدرس نے مسکرا کر جواب دیا: اگر اس روز وہ فدک سیدہ (س) کو لوٹاتے تو دوسرے روز وہ آکر اپنے شریک حیات کا حق خلافت بھی مانگتیں اور ایسی صورت میں خلیفہ اول ان کی بات کا انکار نہیں کرسکتے تھے کیونکہ وہ فدک لوٹا کر اس بات کی تصریق کرچکے ہوتے کہ "دختر رسول (ص) جو بھی کہتی ہیں سچ کہتی ہیں۔ (57)

اب ثابت ہوچکا ہے کہ یہ ابتدائی مظالم میں سے دوسرا ظلم تھا جو سقیفہ کے بعد تاریخ کے ماتھے پر ثبت ہوا اور پہلا یا دوسرا اقدام تھا جس میں سورہ شوری کی آیت 23 کے مضمون و متن کو پامال کیا گیا۔ اور ثابت ہوا کہ صحبت پر فخر کرنے والوں نے کتنی جلد یعنی رسول اللہ (ص) کے وصال کے چند ہی دنوں میں، صحبت رسول اللہ (ص) کے دعؤوں کی حقیقت واضح کردی۔

سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے دشمنی کا اظہار تھا جو آپ (ص) کی حیات طیبہ کے دوران ناممکن تھا؟ کیا اہل بیت (ص) سے رسول اللہ (ص) کی بت شکنی کا بدلہ لیا جارہا تھا؟

میری بیٹی آپ غضبناک ہوں تو اللہ بھی غضبناک ہوجاتا ہے

قال رسول الله صلي الله عليه و آله و سلم لفاطمة (س): "إن اللّه يغضب لغضبك و یرضى لرضاك" (58)

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فاطمہ (س) سے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ آپ کے غضب پر غضبناک ہوتا ہے اور آپ کی خوشنودی پر خوشنود ہوتا ہے۔

خلیفہ نے سیدہ کو غضبناک کیا:

بخاری کی روایت:

فلقد روی البخاري بسنده عن ابن شهاب عن عروة عن عائشة إن فاطمة بنت النبي (صلی الله عليه و آله و سلم ) ارسلت الی ابي بكر تسأله ميراثها من رسول الله (صلی الله عليه و آله و سلم ) مما افاءالله عليه