3 مئی 2012 - 19:30

مصری عوام کی طرف سے سعودی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے موقع پر سعودی سفارتخانے کے قانونی مشیر نے بوکھلاہٹ کی انتہا پر دعوی کیا کہ مصر میں ایک تین رکنی ایرانی ٹیم کو حراست میں لیا گیا ہے جس نے سعودی سفیر پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق, ابھی تک سعودی عرب اور دنیا کے دوسرے ملکوں کے عوام اور باخبر حلقے امریکہ میں سعودی سفیر کے قتل کے سلسلے میں ایران پر لگائے گئے الزامات پر ہنس ہی رہے تھے کہ آل سعود نے ایک نیا دعوی کیا اور قاہرہ میں سعودی سفارتخانے کے قانونی مشیر نے الزام لگایا کہ مصری حکومت نے سعودی سفیر کو ہلاک کرنے کے لئے آئی ہوئی ایک تین رکنی ایرانی ٹیم کو گرفتار کرلیا ہے۔لندن سے شائع ہونے والے سعودی روزنامے "الحیات" نے قاہرہ میں سعودی سفارتخانے کے قانونی مشیر "سامی جمال الدین" کے حوالے سے دعوی کیا کہ حال ہی میں مصر کے خفیہ اداروں نے ایک نیٹ ورک کا سراغ لگا کر اس کے تین ایرانی اراکین کو گرفتار کرلیا ہے جس نے مصر میں سعودی سفیر  اور عرب لیگ میں آل سعود کے مستقل مندوب "احمد القطان" پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔جمال الدین نے دعوی کیا کہ مصری حکام نے آل سعود کے اعلی اہلکاروں کو اس انکشاف کی خبر دی لیکن آل سعود نے اس مسئلے کو راز میں رکھنے کو ترجیح دی۔یہ جعلی خبر ایسے حال میں الحیات میں شائع ہوئی ہے کہ مصر میں آل سعود کے خلاف اٹھنے والی نفرت کی لہر میں مزید شدت آئی ہے اور عوام نے سعودی اور اسرائیلی سفیروں کی مصر سے جلاوطنی کا مطالبہ کیا ہے۔ مصری عوام مطالبہ کررہے ہیں کہ آل سعود کے ہاتھوں گرفتار مصری شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور ان پر آل سعود کی بے انصاف عدالتوں میں مقدمات نہ چلائے جائیں۔ لیکن دوسری طرف سے باخبر ذرائع نے خبر دی ہے کہ مصریوں کے ان مطالبات کے جواب میں آل سعود کے وزير خارجہ سعود الفیصل نے دھمکی دی ہے کہ سعودی عرب میں گرفتار مصریوں کو ہلاک کرکے تابوتوں میں مصر لوٹایا جائے گا۔بہرحال سعودی سفارتخانے کے قانونی مشیر کے دعوے کے ایک روز بعد مصر کے سرکاری ذرائع نے سعودی سفارتکار کی جانب سے خبرسازیوں کی شدت سے تردید کی اور کہا کہ ایسا کوئی بھی ایرانی گروپ مصر میں گرفتار نہیں ہوا ہے۔مصر کے خبررساں ادارے و ٹیلی ویژن نیٹ ورک "الشرق الاوسط" نے مصری حکومت کے ایک ذمہ دار اہلکارے کے حوالے سے لندن کے سعودی روزنامے الحیات کے دعؤوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا مصر میں ایسا کوئی ایرانی گروہ گرفتار نہیں ہوا ہے جس نے سامی جمال الدین کے بقول، سعودی سفیر کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔الشرق الاوسط خبررساں ادارے نے زور دے کر کہا کہ سامی جمال الدین کے تمام دعوے بالکل جھوٹے اور بے بنیاد ہیں اور سعودی سفیر سفارتی مشن کی سربراہی سنبھالنے سے گذشتہ ہفتے مصر سے نکل ج.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

بلادالحرمین کی عمومی صورت حال؛العوامیہ میں شیعہ رہائشی علاقوں پر سعودی افواج کی فائرنگانے تک، کسی قسم کا حملہ نہيں ہوا ہے۔