1 مئی 2012 - 19:30

صحافتی ذرائع نے خبردی ہے کہ صہیونی ریاست اورقطرکےحکام اردن میں فلسطینیوں کےلئے ایک متبادل وطن کاجائزہ لےرہے ہيں اور اس مقصد کےلئے قطراوراسرائیلی حکام کےدرمیان کئی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ اس مسئلےکا سعودی عرب اور امریکہ کے حکام بھی جائزہ لےرہےہیں۔

ابنا: فلسطینیوں کےلئے متبادل وطن کے سازشی منصوبے کاجائزہ لینےکےلئےنئےاقدامات ایسےعالم میں سامنےآرہے ہيں کہ صہیونی ریاست اپنی توسیع پسندانہ اورتسلط پسندانہ پالیسیوں میں شدت پیداکرتےہوئےغرب اردن کوفلسطین سےملاناچاہتی ہے۔اس تناظرميں صہیونی ریاست مغربی اوربعض عرب حکومتوں کی حمایت سےفلسطینی زمین پرخودمختارفلسطینی حکومت کی تشکیل کی زمین ہموارکرنےاورخومختارفلسطینی مملکت کی تشکیل سمیت فلسطین کےسلسلےمیں اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل درآمد کاجائزہ لینےکےسلسلےمیں عالمی برادری کی حساسیت کوختم کرناچاہتی ہے۔مغربی حکومتیں اس سلسلےميں اپنی حمایتوں بالخصوص فلسطینی آوارہ وطنوں کی وطن واپسی کی ممانعت اورانھیں انھیں ملکوں میں بسانےکاجائزہ لےکرجن میں وہ سکونت پذیرہیں فلسطین میں صہیونی ریاست کی سازشوں کوعملی جامہ پہنانےکی کوشش کررہی ہیں۔صہیونی ریاست ، فلسطینیوں کےلئےمتبادل وطن کاموضوع پیش کرکےفلسطینیوں کوان کےوطن سےنکالنےکی زمین ہموارکررہی ہےتاکہ پورےفلسطین پرتسلط پیداکرکے فلسطینیوں کی وطن واپسی کامسئلہ ہمیشہ کےلئےختم کردے۔یہ ایسےعالم میں ہےکہ اقوام متحدہ کی قرارداد ایک سوچورانوےميں واضح طورپرفلسطینیوں کی وطن واپسی کےحق کوتسلیم کرتےہوئےانھیں حرجانہ دینے پرتاکیدکی گئی ہے اوراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی بارہا فلسطینی عوام کےحقوق کےحصول پرتاکیدکی ہے ۔صہیونی ریاست فلسطین پرمکمل تسلط کی غرض سے فلسطینیوں کےلئےمتبادل وطن کاسازشی منصوبہ پیش کرکےعالمی برادری سےخود کوایک یہودی حکومت کےطور پرمنواناچاہتی ہے ۔صہیونی ریاستفلسطینیوں کےلئےمتبادل وطن جیسےسازشی منصوبےپیش کرکےاردن جیسےعرب ممالک میں بھی اپنےتوسیع پسندانہ مقاصدحاصل کرناچاہتی ہے۔ اس بنا پر اس طرح کی صورت حال کامقابلہ کرنےکےلئےفلسطینیوں کی مزید ہوشیاری اور ہرطرح کےسازشی عمل کومسترد کرنےنیز صہیونی ریاست اور اس کےحامیوں کی سازشوں کوناکام بنانے کےلئےپہلےسےزيادہ فلسطینی عوام کی استقامت کی ضرورت ہے۔......./169