اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں انسانی حقوق کے شعبے کے فعال راہنما محمد التاجر نے امریکہ کے بیان کو افسوسناک قرار دیا جس نے "قاتل اور مقتول" کو ایک ہی آنکھ سے دیکھا تھا؛ اور نہایت نا انصافی کا مظاہرہ کرکے فریقین کو صبر و تحمل کا راستہ اپنانے اور تشدد سے پرہيز کرنے کی تلقین کی، اور کہا: بحرینی قوم امریکہ سے خیر کی توقع نہيں رکھتے کیونکہ امریکی حکومت نے متعدد بار اس بات پر زور دیا ہے کہ "آل خلیفہ خاندان امریکہ کا تزویری رفیق کار یا شریک کار" ہے
انھوں نے امریکی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بظاہر تو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتا ہے لیکن بحرینی عوام کے خلاف آل خلیفہ کی تشدد آمیز رویوں کو روکنے کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں کیا کرتا۔
انھوں نے کہا: امریکہ ایسے حال میں اس طرح کے مبہم تشویشی بیانات جاری کرتا ہے کہ وہ بخوبی جانتا ہے کہ بحرین کی صورت حال بہت زیادہ خطرناک ہوچکی ہے اور اس نے ایک طرف سے اپنے باشندوں کو بحرین جانے سے منع کیا ہے اور انہیں خبردار کیا ہے کہ منامہ کے حکمران پرامن دھرنے اور تشدد آمیز حملوں کے درمیان کسی قسم کے فرق کے قائل نہيں ہیں اور سب کو کچلتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ منامہ کے حکمران سب کو کچل دیتے ہيں اور اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ اس طرح کے دھرنوں میں شرکت کرنے سے پرہیز کریں اور ہر سادہ سا تجزیہ نگار بھی اس بات کا اندازہ لگا سکتا ہے کہ امریکہ نے آل خلیفہ کو کھلی چـھٹی دے رکھی ہے اور لگتا ہے کہ گویا وہ وہ اپنے شہریوں کو آل خلیفہ کی بہادری کی داستان سنا رہا ہے!۔
.......
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
انقلاب کرامت بحرین کا 440واں دن؛ متنوع رپورٹیں؛
آل خلیفہ کے خلاف لاکھوں افراد کا احتجاج / عبدالہادی الخواجہ کہاں ہیں؟