ابنا: بان کي مون نے اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ انہيں غرب اردن ميں نئي بستياں بنانے کے اسرائيلي فيصلے پر انتہائي افسوس ہے-
انہوں نے اسرائيل کي نئي آبادکاري کو غير قانوني قرار ديتے ہوئے کہا کہ ايک ايسے موقع پر جب اسرائيلي حکام اور فلسطيني اتھارٹي مذاکرات پھر سے شروع کرنے کي کوشش کر رہے ہيں، اس قسم کا فيصلہ انتہائي مايوس کن ہے-
اقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل نے مزيد کہا کہ اسرائيل، اقوام متحدہ، يورپي يونين، امريکہ اور روس پر مشتمل چار فريقي امن کميٹي کے مرتب کردہ منصوبے پر عملدارمد کا پانبد ہے اور اسے متنازعہ علاقوں ميں نئي صہیوني بستياں بسانے جيسے اشتعال انگيز اقدامات سے گريز کرنا چاہيے- سياسي ماہرين کا کنہا ہے کہ اقوام متحدہ اسرائيلي اشتعال انگيزيوں کي روک تھام کے لئے کوئي ٹھوس اقدام کرنے کي صلاحيت نہيں رکھتي-
.......
/169