ابنا: پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی دفتر میں منعقدہ ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ناصر عباس جعفری نے حکومت کے ساتھ مذکرات اورحکومت کی جانب سے ملت جعفریہ کے مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنے کے باضاطہ طور پر ختم کئے جانے کا اعلان کیا۔
انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے حکومت کو جو چارٹر آف ڈیمانڈ دیا گیا تھا اس میں 10 مطالبات شامل تھے۔ 1۔ گلگت بلتستان کے تمام شہداء کے جنازوں کو ان کے علاقوں میں منتقل کیا جائے۔
2۔ سانحہ چلاس اور سانحہ کوہستان کے تمام ذمہ داروں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور آپریشن کا آغاز کیا جائے۔
3۔ شاہراہِ قراقرم پر دوران سفر لاپتہ ہونے والے تمام مسافروں کو باحفاظت ان کے گھروں تک پہنچایا جائے۔
4۔ دیامر اور چلاس سمیت ملک بھر میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور تربیتی کیمپس کو فوری ختم کیا جائے۔
5۔ گلگت میں لگائے جانے والے کرفیو کو فوراً ختم کیا جائے۔
6۔ گلگت بلتستان کے مسافروں کو راولپنڈی کے سفر کے لئے متبادل اور محفوظ راستہ فراہم کیا جائے۔
7۔ شاہراہ ریشم کی حفاظت کی ذمہ داری فوری طور پر پاک فوج کے سپرد کی جائے۔
8۔ گلگت بلتستان کیلئے پی آئی اے کی اضافی پروازیں فوراً شروع کر دی جائیں اور رعایتی کرایوں کو بحال کیا جائے۔
9۔ سانحہ کوہستان کے بعد حکومت کی جانب سے منظور کیے جانے والے چارٹر آف ڈیمانڈ پر سوفیصد عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
10۔ کوئٹہ میں جاری شیعہ نسل کشی، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں لاپتہ افراد کی شہادت کے واقعات کو روکنے کے لئے بڑی سطح کی موثر کارروائی فوری طور پر شروع کی جائے۔
علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ہمارے تمام مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں اور ہم پرامید ہے کہ حکومت آئندہ دو ہفتوں میں ہمارے تمام مطالبات پر عمل درآمد یقینی بنائے گی، اس لیے میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی جانب سے دیا جانے والا احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں اور اس احتجاج کے دوراں اظہار یکجہتی کرنے والی تمام شخصیات اور اداروں کا بے حد ممنون ہوں۔
اس کے ساتھ ہی علامہ ناصرعباس جعفری نے کہا کہ ہم بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جاری شیعہ نسل کشی کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں، آج پھر امریکہ نواز کالعدم دہشتگردوں نے بے گناہ شیعہ نوجوانوں کو بربریت اور دہشتگردی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا ہے۔
بلوچستان حکومت دہشتگردوں کے آگے ناکام ہو چکی ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر نااہل وزیرِاعلٰی بلوچستان اسلم رئیسانی کو بر طرف کر کے دہشتگردوں کے خلاف بھرپور آپریشن کیا جائے۔
وگرنہ حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی، ہم ملک بھر میں اس سانحہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہیں اور جمعۃ المبارک 20اپریل کو شہداءِ ملت سے تجدید اور ایفائے عہد کے طور پر یومِ شہداء منایا جائے گا۔.......
/169