ابنا: صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے جنوبی صوبے ہرمزگان میں عوامی اجتماع سے خطاب میں کہا کہ مغربی ممالک ملت ایران کی ترقی کے مخالف ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ملت ایران اپنے پیروں پر کھڑی رہے۔ انہوں نے علاقے کے حالات کے بارے میں کہا کہ بیرونی طاقتوں نے علاقے کے ممالک کو ہتھیار فروخت کرکے امن و امان کو تباہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑی طاقتیں دراصل علاقے کے ممالک کی دولت لوٹنا چاہتی ہیں اور وہ ان ملکوں کوہتھیار فروخت کر کے علاقے میں امن قائم نہیں کرسکتیں کیونکہ علاقائي ملکوں کی مشارکت سے ہی امن قائم ہوسکتا ہے۔
صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ بیرونی طاقتیں دیگر ملکوں کے امور میں مداخلت کرکے علاقے پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہیں اور ان کا مقصد قوموں کی دولت سرمائے اور ثقافت و تشخص کو برباد کرنا ہے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ امریکہ اور مغربی ممالک علاقے کے ڈکٹیٹروں کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عراق کے سابق ڈکٹیٹر صدام نے امریکہ اور مغربی ملکوں کی حمایت ہی سے ایران اور کویت پر حملے کئے تھے اور وہ اپنے مغربی آقاؤں کی انگلیوں کے اشاروں پر ناچتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ کویت پر صدام کے حملے کے بعد ان ہی مغربی ملکوں نے کویت کو نجات دینے کے بہانے صدام پر حملے کئے اور اسے اقتدار سے ہٹا دیا۔ صدر جناب احمدی نژاد نے افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے قبضے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ قابض ممالک القاعدہ سے مقابلے کے بہانے افغان قوم کے ذخائر لوٹ رہے ہیں۔....... /169