9 اپریل 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سکریٹریٹ نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 14/ اپریل کو ترکی کے شہر استنبول میں جبکہ مذاکرات کا دوسرا دور عراق کے دارالحکومت بغداد میں منعقد ہوگا ۔

ابنا: اعلان کے مطابق اس فیصلے سے فریقین نے اتفاق کیا ہے اور14/ اپریل کو ترکی کے شہر استنبول میں مذاکرات کا پہلا دور فریقین کے اس سے قبل کے مذاکرات کے عمل کا ہی سلسلہ ہے اور یہ کہ ایران ان مذاکرات کیلئے کوئی شرط قبول نہیں کریگا ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے بھی کل تہران میں جاپان کے سابق وزیر اعظم یوکیوہاتویاما سے گفتگو کرتے ہوئے تاکید کے ساتھہ کہا ہے کہ ایران آج بھی مذاکرات کیلئے آمادہ ہے اور وہ تعاون کے دائرے میں پیش کی جانے والی ہر تجویز کا خیر مقدم کریگا ۔

ایرانی حکام نے بارہا اعلان کیا ہے کہ تہران پرامن جوہری توانائی سے متعلق ایرانی قوم کے مسلمہ حق سے ہرگز چشم پوشی نہیں کریگا اور یورینیم کی افزودگی سمیت اپنی جوہری سرگرمیاں بند نہیں کریگا اور نہ ہی اس حوالے سے وہ کوئی شرط قبول کریگا ۔ بعض مغربی ممالک ایسی حالت میں ایران کی پرامن جوہری سرگرمیوں کو خطرناک ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ ایران ہمیشہ آئی اے ای اے ساتھہ بھرپور تعاون کرتا رہا ہے اور ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کی کسی بھی رپورٹ میں یہ دعوی نہیں کیا گیا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں میں کسی قسم کی خلاف ورزی کا مشاہدہ کیا گيا ہے ۔

ایران نے اپنی جوہری سرگرمیاں پرامن ثابت کرنے کیلئے اس ایجنسی کے معائنہ کاروں کے ساتھہ اس عالمی ایجنسی کے قوانین سے کہیں زیادہ بڑھکر تعاون کیا ہے ۔ آئی اے ای اے کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات کا مسلسل معائنہ اور یورینیم کی افزودگی میں دیگر ملکوں کی شراکت کے بارے میں تہران کی تجویز، ایران کے جملہ تعمیری اقدامات میں شامل ہے ۔ ایرانی حکام نے بارہا کہا ہے کہ تہران، آئی اے ای اے کے قوانین اور این پی ٹی معاہدے کی بنیاد پر جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے درپے ہے اور ایران کی دفاعی حکمت عملی میں ایٹمی ہتھیار، کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔

 اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر ایران ہمیشہ عالمی امن و سلامتی کی برقراری کی کوشش کرتا رہا ہے اور اس نے تمام علاقائی و بین الاقوامی اجلاسوں میں مشرق وسطی سمیت پوری دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے ۔ اسی اہم اصول کے پیش نظر ایران کے مذاکرات کاروں نے گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھہ اپنی تمام نشستوں میں پوری دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے اور ایران نے علاقائی و بین الاقوامی بحران کے حل کیلئے ہمیشہ اعلان آمادگی اور دو طرفہ تعاون کے دائرے میں پیش کی جانے والی ہر تجویز کی حمایت کی ہے ۔

اس رو سے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات ،صرف اسی صورت میں کامیاب ہوسکتے ہیں کہ مقابل فریق ایرانی قوم کے مسلمہ حق کو تسلیم کرے اور مذاکرات کیلئے کوئی شرط عائد نہ کرے ورنہ پھر مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ۔ جیساکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ جناب علی اکبر صالحی نے آج کہا ہے کہ ترکی کے شہر استنبول میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات سے قبل عائد کی جانے والی کوئی بھی شرط ،مذاکرات سے قبل ہی نتیجہ اخذ کئے جانے کے مترادف اوربےمعنی ہوگی ۔ چنانچہ امید کی جاتی ہے کہ استنبول مذاکرات کے، ماضی کے ادوار کی نسبت مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور 14/ اپریل کے ان مذاکرات میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے تعاون سے ایک اور قدم آگے بڑھایا جائے گا ۔ ......

/169