ابنا: ریمونڈ مک گارون نے کہاہےکہ امریکہ کی خفیہ ایجنسیاں قیدیوں سے اعتراف کرانے اوراطلاعات حاصل کرنےکےلئےاپنےخاص ہتھکنڈےاختیارکرتی ہيں اوریہ کام خفیہ مقامات پرانجام دیتی ہيں۔سی آئی اے کےاس سابق اہلکار نے مزید کہاہےکہ امریکی حکومت اپنےلئےیہ حق محفوظ سمجھتی ہے کہ دوسرےملکوں میں اپنی خفیہ جیلوں کومشکوک افراد کوقیدرکھنےاوران سےتفتیش کےلئے استعمال کرے۔انھوں نےکہاکہ ایک ملک جہاں امریکہ کی خفیہ جیل تھی ، پولینڈ تھا۔البتہ عراق اور افغانستان میں بھی امریکہ کی خفیہ جیلیں موجود ہيں ۔معروف افغانی قیدی شیرخان نےابھی حال ہی میں فاش کیاہے کہ امریکی صدرباراک اوبامہ کےدعوؤں کےبرخلاف واشنگٹن میں افغانستان کی خفیہ جیلیں ہیں اور جیلوں ميں قیدیوں کوآنکھوں پرپٹی باندہ کرچھتوں سےلٹکایاجاتاہےاور ان سےتفتیش کےدوران ان پرکتوں کوچھوڑ دیاجاتاہے۔ گیارہ ستمبرکےواقعے اوراس سےامریکہ کی جانب سےناجائز فائدہ اٹھائےجانےکاسلسلہ شروع ہونےکےبعد،بعض ممالک،امریکہ کی مہم پسندی سےبچنےکےلئےاس کےساتھ ہوگئے۔امریکہ نےاس زمانےميں اپنےپیچیدہ عدالتی قوانین کی بنا پر قیدیوں کوخفیہ طور پریورپ کےمختلف ملکوں حتی عراق اورافغانستان میں منتقل کردیا۔سیاسی ماہرین کاخیال ہےکہ امریکہ کا یہ اقدام انسانی حقوق کےسب سےبڑےدعویدار کےہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی شمار ہوتا ہے۔ان ماہرین کاخیال ہے کہ انھیں قوانین کی بنیاد پر جنھیں مغربی ممالک نےتیار کیاہے افراد کودفاع کاحق دیئےبغیر اورمقدمہ چلائے بغیرجیلوں میں رکھنا درست نہيں ہے۔انسانی حقوق کی خلاف ورزی بالخصوص اس سلسلےميں اس حدتک آگےبڑھ گئی ہے کہ یورپی یونین کی کونسل نےبھی ایک بیان جاری کرکےخفیہ جیلوں کوبند کئےجانے کامطالبہ کیاہے۔ درحقیقت امریکی حکام کی نظر میں انسانی حقوق کامسئلہ اسی وقت تک کارآمد ہے جب تک اس میں امریکہ کےمفادات اورمصلحتیں شامل ہوں ورنہ امریکہ کی سیاسی اورقانونی لغت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی کوئی حیثیت نہيں ہے۔....... /169
2 اپریل 2012 - 19:30
News ID: 306223
امریکہ کےخفیہ ادارے سی آئی اے کےایک سابق اہلکار ریمونڈ مک گاورن نے دنیاکےدوسرےممالک میں امریکہ کی خفیہ جیلوں سےواشنگٹن کےناجائزفائدہ اٹھائےجانےکے نئےپہلؤں سےپردہ اٹھاتےہوئےکہاہےکہ امریکہ اس سلسلےمیں کوئي ذمہ داری قبول نہيں کرتا۔