ابنا: روس کےوزیرخارجہ سرگئی لاؤروف نے ارمنستان کےدارالحکومت میں ایروان یونیورسٹی کےطلبہ سےخطاب کرتےہوئےایران کےسلسلےمیں امریکہ اوریورپی یونین کےرویے کوغلط قراردیتےہوئےکہاکہ بین الاقوامی تعلقات کی رو سے یہ روش ناقابل قبول ہے۔
روسی وزیرخارجہ نےگروپ پانچ جمع ایک کےفیصلےکی جانب اشارہ کرتےہوئےکہاکہ پرامن ایٹمی ماہیت کےسلسلےمیں بحالی اعتماد کی غرض سے ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی اورایران کےدرمیان تعاون کےتناظرمیں ایران کوآئی اے ای اے کےایک رکن کی حیثیت سےتمام ایٹمی حقوق حاصل ہونےچاہئے۔
روس کےوزیرخارجہ کی تنقید ایران کےخلاف امریکہ کی ان یکطرفہ پابندیوں پر ہے جواس نےدوسرےملکوں پرمسلط کی ہےجبکہ ایران کےخلاف امریکہ کےدشمنانہ اقدامات ایٹمی انرجی کےسلسلےمیں دہرے رویےکا ثبوت اورچندمخصوص ملکوں کی جانب سےایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےذریعے عائدکی جانےوالی منہ زوری پرمبنی پالیسی، این پی ٹی معاہدےکی کھلی خلاف ورزی ہے۔
امریکی صدر نےگذشتہ ہفتےان بینکوں اورمالی اداروں پرنئی پابندیوں کےسلسلےمیں بیان جاری کیاجن کےذریعےایران کےتیل کی خریداری کی جاتی ہے۔
چین کی وزارت خارجہ نےبھی ایران سےتیل خریدنےوالےملکوں کےخلاف امریکہ کی نئی پابندیوں کی مخالفت کااعلان کرتےہوئےتاکید کی ہے کہ واشنگٹن کوحق نہيں ہے کہ وہ اپنےداخلی قوانین کےمطابق دوسرےملکوں پریکطرفہ پابندیاں عائدکرے۔
امریکہ اوریورپی یونین نے دوہزاربارہ کےآغاز سے ایران کےتیل اورمالی شعبےپرنئی پابندیاں عائدکی ہیں اور ان کادعوی ہےکہ تہران کاایٹمی انرجی کاپروگرام فوجی مقاصدکاحامل ہے۔ جبکہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی نےایران کےایٹمی پروگرام میں فوجی مقاصد کی جانب انحراف کے سلسلےمیں اب تک کوئي ثبوت نہیں پیش کیاہے۔
سوال یہ پیدا ہوتاہےکہ اگرمذاکراتی فریق بحالی اعتماد چاہتےہیں تو پہلےانھیں دوہرےایٹمی رویے کاسلسلہ ختم کرناچاہئےکیونکہ ایران ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی اور این پی ٹی کارکن ہونےکےناطے پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کےحصول اوراس میں پیشرفت کاحق رکھتاہے لیکن ایسےعالم میں جب ایران اورگروپ پانچ جمع ایک باہمی مذاکرات شروع کرنےکےلئے ایک دوسرےسےنزدیک ہورہےہیں امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نےابھی سے یہ کہناشروع کردیاہےکہ امریکہ مذاکرات کےواضح نتائج چاہتاہے ۔
بہرحال ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےمذاکرات جلدہی شروع ہونےوالےہیں جبکہ مذاکرات کےعمل کوآگےبڑھانےکےسلسلےمیں مغرب کےسابقہ رویےکونظراندازنہيں کیاجاسکتا۔
ایران اورگروپ پانچ جمع ایک نے دسمبردوہزار دس اور جنوری دوہزارگیارہ میں جینوا اور استانبول میں مذاکرات کےدو دور انجام دیئےہيں کہ جو مغرب کی خلاف ورزی اور نامعقول مطالبات اورموقف کی بناپر تعطل کاشکار ہوچکےہيں۔
ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو خطرہ بنا کرپیش کرکے ایران کےخلاف الزام تراشی پرمبنی مغرب کےموقف سےیہ پیغام ملتاہے کہ مذاکرات سےامریکہ کاموقف ایران پردباؤ ڈالنا ہے۔ درحقیقت امریکی حکام کی کوشش ہےکہ ایران سےخوف زدہ کرنےکی پالیسی کےسہارے، سلامتی کونسل اورعالمی برادری کوایران کےآمنےسامنے لاکھڑاکريں۔ البتہ ان پالیسیوں پرعمل درآمد کاکوئي نتیجہ نہیں نکلےگا کیونکہ نہ صرف ایران کےخلاف مغرب کےمبہم دعوں کاکوئی ثبوت نہيں ہے بلکہ امریکہ کو روس اورچین کےساتھ اپنےتعلقات میں بھی چیلنجوں کاسامناہے جو سلامتی کونسل کےمستقل رکن ہیں۔
مغرب میں اقتصادی بحران ، انرجی کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایشیاء ویورپ کےممالک پر ایران سےتیل کی خریداری پرپابندی سے پیدا ہونےوالے منفی نتائج کےاثرات مزید نمایاں ہوگئےہيں۔
جبکہ بیجنگ اورماسکو این پی ٹی معاہدےپردستخط کرنےوالے ممالک ہیں اور بین الاقوامی معاہدوں کی پابندیوں کےپیش نظرایران کےحقوق کونظرانداز نہيں کرسکتے جیساکہ امریکہ چاہتاہے۔
.......
/169