26 مارچ 2012 - 19:30

صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے کہا کہ ايران کا ايٹمي مسئلہ دباؤ ڈال کر حل نہيں کرايا جا سکتا-

ابنا: ڈاکٹر محمود احمدي نژاد نے جرمني کے زيڈ ڈي ايف ٹي وي چينل کو انٹرويو ديتے ہوئے کہا کہ ايران نے ايٹمي توانائي کي عالمي ايجنسي آئي اے اي اے کے قوانين کے دائرے ميں ہي نہيں بلکہ اس سے بھي آگے بڑھ کر رضا کارانہ طور پر تعاون کيا ہےـصدر احمدي نژاد نے کہا کہ مغربي ممالک اور آئي اے اي اے کو چاہئے کہ ايران کے حق کو تسليم کريں اور اس رخ پر اس سے مذاکرات انجام ديں ـ

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايران ايٹم بم کے وجود کا ہي مخالف ہے اور اسے اخلاقيات اور انسانيت کے منافي ہتھيار سمجھتا ہےـ انہوں نے کہا کہ آج جن لوگوں کے پاس ايٹمي ہتھيار ہيں وہ اپنے يہ ہتھيار کسي کے خلاف استعمال نہيں کر سکتے کيونکہ دوسري عالمي جنگ کے ساتھ ہي ايٹمي ہتھياروں کا دور بھي تاريخ ميں دفن ہو چکا ہےـ

صدر ايران نے سوال اٹھايا کہ کيا صيہوني حکومت اپنے ايٹمي ہتھياروں کي مدد سے حزب اللہ لبنان يا فلسطين کي تحريک حماس کا سامنا کر سکي ؟ انہوں نے مزيد پوچھا کہ کيا سوويت يونين يا امريکا کو ايٹمي ہتھياروں سے کاميابي ملي ؟ ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايٹمي ہتھيار کا تعلق گزشتہ صدي سے تھا لہذا جو بھي جوہري ہتھيار کي فکر ميں ہے وہ در حقيقت تاريخ، انسانيت اور سياست سے بہت پيچھے چل رہا ہےـ

ڈاکٹر احمدي نژاد نے کہا کہ ايران چاہتا ہے کہ دنيا ميں قانون کي پابندي اور انصاف کا قيام ہو اور سب کے ساتھ يکساں برتاؤ کيا جائےـ انہوں نے کہا کہ ايسا نہيں ہو سکتا کہ کچھ لوگ بيٹھ کر ساري دنيا کے ا نسانوں کے لئے فيصلہ کريں، کوئي مخصوص قانون وضع کريں، اس طرح دنيا کو نہيں چلايا جا سکتا کيونکہ يہ روش عالمي عالمي جنگ کے دور سے تلعق رکھتي ہےـ

صدر ايران نے اس سوال کے جواب ميں کہ کيا ايران کے پاس يورپ پر اقتصادي دباؤ ڈالنے کي طاقت ہے کہا کہ ايران يقيني طور پر ايسا کر سکتا ہے کيونکہ اس وقت يورپ کے ساتھ ايران کا چوبيس ارب ڈالر کا لين دين ہے جس پر يورپ ميں دو سے تين لاکھ نوکريوں کا انحصار ہے-.......

/169