اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جامعہ ملک خالد کا سانحہ اور آل سعود کی دینی پولیس کی سفاکی کی وجہ سے سعودی عرب کے مشہور جرائد و اخبارات رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سعودی عرب میں رونما ہونے والے واقعات کو کوریج دینے لگے ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق روزنامہ الوطن بھی ان ہی جرائد و اخبارات میں شامل ہے جس نے لکھا ہے کہ امریکی کالج "کیٹی" نے ملک خالد یونیورسٹی میں بدانتظامیوں اور طلبہ و طالبات کے ساتھ بدسلوکیوں کے منفی نتائج کے بارے ميں خبردار کیا تھا۔الوطن نے "جامعات کے سرہراہو! سیلاب تمہاری طرف آرہا ہے" کے تحت عنوان اپنی ایک رپورٹ میں سعودی عرب کی دوسری جامعات کی صورت حال کا جائزہ لیا ہے اور اس روزنامے نے ملک خالد یونیورسٹی کے سانحے کی مذمت کی ہے۔ اس روزنامے نے سعودی حکام کو جامعات کی صورت حال کی نزاکت کا سبب قرار دیا ہے اور لکھا ہے: سیاسی حکام تعلقات اور سفارش کی بنیاد پر اپنے منظور نظر افراد کو جامعات پر مسلط کرتے ہیں، طلبہ کے مطالبات کو نظرانداز کرتے ہيں، ان کی شکایات کو توجہ نہیں دیاے اور اگر وہ احتجاج کریں تو انہیں کچل دیتے ہیں جس کی وجہ سے ملک کو موجودہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔الوطن نے ایک دوسرے کالم میں "صوبہ عسیر" (1) کے شہر "بلقرن" کے کالجوں کی صورت حال کا جائزہ لیا ہے اور لکھا ہے: طلبہ ملک خالد یونیورسٹیوں کے مختلف شعبوں کی صورت حال سے راضی نہيں ہیں کیونکہ اس یونیورسٹی کی عمارتیں پرانی ہیں اور بعض عمارتیں منہدم ہوچکی ہیں، گیلریوں اور برآمدوں کی صفائی کا انتظام نہيں ہے اور لیٹرینوں کی صورت حال بھی بہت خراب ہے اور مجموعی طور پر ڈپارٹمنٹس کی صورت حال طلبہ کے شایان شان نہيں ہے۔ روزنامہ "عکاظ" نے اپنے پہلے صفحے پر سرخی لگا کر لکھا ہے: ملک خالد یونیورسٹی جیسے حالات کا سد باب کرنے کی غرض سے "ام القری" یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کی عمارتیں تیزرفتاری سے مکمل کی جارہی ہیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں کوئی بھی روزنامہ حکومت کے خلاف کچھ لکھنے کا مجاز نہيں ہے اور مخالف قلم کو توڑ دیا جاتا ہے اور آل سعود کے قریبی روزناموں نے جو کمپین شروع کیا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ عوامی تحریک کو یونیورسٹیوں کے اندرونی مسائل تک محدود کیا جائے اور دنیا والوں کو بتایا جائے کہ اس ملک کے عوام آل سعود کے وفادار ہیں لیکن شاید یہ مسائل بیان کرنے میں بھی تاخیر سے کام لیا گیا ہے اور سعودی عرب کا مسئلہ ان باتوں سے حل ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔۔۔۔۔۔۔1۔ صوبہ عسیر، صوبہ جیزان اور صوبہ نجران تین یمنی صوبے ہیں جو ایک سو سال کی لیز پر آل سعود کے حوالے کئے گئے تھے اور نئی صدی کی ابتداء میں لیز کی مدت ختم ہوچکی ہے چنانچہ آل سعود نے اس زمانے سے لے کر اب تک یمنی عوام پر چھ جنگیں مسلط کی ہیں اور یمن کے انقلاب کو ناکام بنانے کے لئے کروڑوں ڈآلر خرچ کئے جارہے ہيں کیونکہ یمن کے انقلابیوں کا کہنا ہے کہ کامیاب ہوتے ہی اپنے مقبوضہ علاقوں کو آل سعود کے تسلط سے چھڑا دیں گے۔ ........
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے: