شیعہ اعتقاد کے مطابق اللہ تعالی "لا مؤثر في الوجود إلا الله سبحانه"، عالم وجود میں اللہ سبحانہ و تعالی کے سوا کوئی بھی مؤثر نہیں ہے اور اللہ کے سوا جتنے بھی انبیاء اور اولیاء اور اقطاب و علماء و عرفاء یا عام انسان یا دیگر موجودات بھی ہیں وہ سب اللہ تعالی کی مخلوق ہیں چنانچہ ان کو وجود میں مؤثر سمجھنا شرک ہے اور کہیں کوئی نبی یا کوئی ولی کوئی معجزہ دکھاتا یا کائنات میں کوئی تصرف کرتا نظر آئے تو جان لینا چاہئے کہ اس کو تصرف کا یہ حق اور یہ اختیار اللہ تعالی نے عطا فرمایا ہے اور یہ تصرف ان کا ذاتی نہیں ہے۔
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کے تابعدار اسی لئے ہیں کہ وہ "اللہ تعالی کے خاص بندے ہیں" اور ان کا اعتبار اللہ تعالی کی ذات سے براہ راست وابستگی کی بنا پر ہے؛ اب اگر ہم ان کی مدح سرائی میں حد سے بڑھ جائیں. متقی ہندی علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (ع) نے فرمایا: "عن علي قال : يهلك في رجلان : محب مُفرِط ، و مبغض مُفَرِّط"۔ (1) دو آدمی میری وجہ سے نابود ہوجائیں گے: وہ جو میری محبت میں غُلُو کا ارتکاب کرے گا اور وہ جو میری دشمنی میں زیادہ روی کرے گا۔ اور نہج البلاغہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: هَلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ مُحِبٌّ غَالٍ وَ مُبْغِضٌ قَالٍ (2) میری وجہ سے دو لوگ نابود ہوجائیں گے وہ جو میری محبت میں غلو کریں گے (اور مجھے اپنے درجے سے بڑھا کر (معاذاللہ) الوہیت کے قائل ہوں گے) اور وہ جو میری مخالفت میں بغض اور دشمنی کی انتہا تک پہنچیں گے۔
میں مروی ہے کہ علی علیہ السلام نے فرمایا: "يهلك في اثنان ولا ذنب لي: محب غال، ومفرط قال. (3) میری وجہ سے دو قسم کے لوگ ہلاک (نابود) ہوجائیں گے اور مجھ پر کوئی گناہ نہ ہوگا ... ۔ ابن ابي جمهور الأحسائي المستدرك للحاكم کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اميرالمؤمنين علیہ السلام سے مخاطب ہوکر فرمایا: "یا علي! يهلك فيك فئتان. محب غال ومبغض قال"۔ (4) اے علی! دو قسم کے لوگ آپ کی وجہ سے ہلاک اور نابود ہونگے ایک وہ جو آپ کی محبت میں زیادہ روی اور غُلُوْ کا ارتکاب کرتے ہیں اور وہ جو آپ کے ساتھ دشمنی کی انتہا کریں گے... اور فرائد السمطين، میں مروی ہے کہ علی علیہ السلام نے فرمایا: دو قسم کے لوگ میری وجہ سے نابود ہونگے: زیادہ روی کرنے والے دوست اور بغض برتنے والے دشمن۔ (5)
ہلاکت اور نابودی کا خطرہ چودہ معصومین کے سلسلے میں ہی نہیں بلکہ ان سے منسوب دیگر شخصیات کے حوالے سے بھی پیش آسکتا ہے۔ بعض لوگ اس زمانے میں بعض سادات کے بارے میں اسی مسئلے میں مبتلا ہوچکے ہیں اور بعض دیگر امام حسین علیہ السلام کے بارے میں افراط اور زیادہ روی کے اس درجے پر پہنچے ہوئے ہیں کہ ان کا کہنا ہے کہ تلوار اور نیزے اور تیر کی جرأت ہی نہیں ہے کہ وہ امام اور خاندان بنی ہاشم کے قریب آئیں چنانچہ وہ جان کر یا پھر انجانے میں کربلا کی خاک پر رقم ہونے والے حق و باطل کے تاریخی معرکے کو جھٹلا رہے ہیں اور امام حسین علیہ السلام کی قربانی کے سامنے سوالیہ علامت ثبت کرنے کی طرف قدم اٹھا رہے ہیں یا بعض لوگ اہل بیت علیہم السلام کی شان میں افراط اور زیادہ روی میں اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ ان کا کہنا ہے کہ وہ (معاذاللہ) "لم یلد و لم یولد" ہیں! اور یوں وہ کئی غلطیوں کا ارتکاب کررہے ہیں کہ اولاً چودہ معصومین کس طرح اس دنیا میں آئے اور دوسری بات یہ کہ جو سادات اس دنیا میں موجود ہیں وہ کون ہیں؟ کیا سادات اہل بیت علیہم السلام کی اولاد نہيں ہیں؟ اگر وہ لم یلد ہیں تو سادات کیونکر ان کی اولاد ہوسکتے ہیں اور اگر امام حسن اور امام حسین علیہما السلام امام علی علیہ السلام کے فرزند ہیں اور امام زین العابدین امام حسین کے اور امام محمد باقر امام زین العابدین کے فرزند اور ہر امام اپنے سے پہلے امام کے بھائی یا فرزند ہیں تو لم یولد ہونے کا ثبوت کیا ہے؟
جو کچھ عرض ہوا وہ اس دعوے کے الفاظ سے متعلق تھا اور مذکورہ بالا حدیث کے حوالے سے یہ ہلاکت کا سبب بھی ہے اور پھر ان لوگوں کے عقائد دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ نسل پرستی کا شکار بھی ہیں اور ایک خاص نسل کو آگے رکھ کر در حقیقت اسلام اور اسلام کے تمام احکام کو بھی جھٹلاتے ہيں اور ان پرعمل کرنا بھی ضروری نہيں سمجھتے ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دین اسلام کے پیغمبر بن کر شرافت کے اس درجے پر ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ "بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر" اور امام علی رسول اسلام کی جانشینی اور اسلام کے لئے قربانی اور شہادت کی وجہ سے رسول اللہ (ص) کے بعد امت میں سب پر بھاری ہیں اور 11 امام اور سیدہ سلام اللہ علیہا سب کی عظمت اسلام کے لئے شہادت کی سرحد تک جانے کی وجہ سے خدا اور خلق خدا کے عزیز ہیں اور رہیں گے۔ اور ایک بات یہ بھی ہے کہ اس طرح کے عقائد میں مبتلا حضرات کو لامحالہ تاریخ کے تمام حقائق اور مذہب شیعہ کے تمام علوم اور حصولیابیوں نیز مرجعیت اور عاشورا اور اصولی طور پر قرآن مجید اور فلسفۂ امامت و مہدویت تک کو جھٹلانا پڑتا ہے چنانچہ ان افراد کو شیعہ مذہب و مکتب کے سینے پر ایک نیا زخم کہنا ہی بجا ہوگا یا اس کو ایک انتہا پسند فرقہ کہا جاسکتا ہے اور مکتب امامت ان کے عقائد و نظریات سے بری ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ذات باری تعالی کی نسبت شرک کا ادراک زیادہ آسان ہے لیکن اس کی صفات کی نسبت شرک کا ادراک بہت مشکل ہے کیونکہ بہت سے مواقع پر شرک برتنے والے کو خود معلوم و محسوس ہی نہیں ہوتا کہ وہ شرک میں مبتلا ہوچکا ہے۔ اپنے خیال کے مطابق وہ عبادت کررہا ہوتا ہے لیکن درحقیقت شرک اس کے عمل میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔
شرک کیا ہے
شرک یعنی: غیر خدا پر تکیہ کرنا اور مخلوق خدا کو خدا کا درجہ دینا۔
شرک یعنی: کوئی دوسری قدرت کو خدا کی قدرت کے سامنے لاکھڑا کرنا۔
شرک یعنی: غیر خدا کی بلاچون و چرا اطاعت کرنا۔
شرک یعنی: ایسی تنظیم یا جماعت کی طرف مائل ہونا جس کا مقصد غیر خدا ہو۔
شرک یعنی: طاقتوں اور بڑی طاقتوں سے وابستہ ہوجانا۔
قرآنی قصوں کے درمیان دو قصے خاص طور پر چشم نوازی کرتے ہیں:
حضرت نوح نے بیٹے سے کہا: کفار سب غرق ہونگے بیٹے نے کہا: میں پہاڑ کی پناہ لوں گا۔ (6) خدا سے بھاگ کر پہاڑ کی پناہ لینا اور یہ کہنا کہ پہاڑ مجھے ڈوبنے سے بچائے گا یعنی اس کی روح میں شرک رچ بس چکا تھا۔ اگر آج بھی ہم کسی کو خدا کے سامنے لاکھڑا کریں چاہے وہ پہاڑ ہو یا کوئی اور چیز، تو ہم بھی مشرک ہونگے۔
شرک کی تاریخ
انسان مادی موجود ہے اور مادیات کی طرف بہت زیادہ مائل ہے۔ قدیم زمانوں میں جب کوئی بڑا آدمی دنیا سے رخصت ہوجاتا لوگ اس سے اپنی محبت و عقیدت کے اظہار کے لئے اس کا مجسمہ بنایا کرتے تھے