ابنا: فلوریڈا کے سابق سینیٹر باب گراہم اور ریاست نبراسکا کے سابق سینیٹر باب کیری نے سعودی عرب کے خلاف کئي ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کرتے ہوئے عدالت کے سامنے حلف اٹھایا ہے کہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ سعودی عرب گيارہ ستمبر کے دہشت گردانہ واقعات میں ملوث ہے۔ گيارہ ستمبر کے واقعات میں متاثر ہونے والوں کے اہل خانہ نے ان سابق سینیٹروں کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ یاد رہے کہ فلوریڈا کے سابق سنیٹر باب گراہم دو ہزار دو میں گيارہ ستمبر کے واقعات کے بارے میں کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ تھے۔
یاد رہے کہ فرانس کے چینل چوبیس نے گيارہ ستمبر کےدہشت گردانہ واقعات کے بارے میں رپورٹ دی تھی کہ طیاروں کے انیس اغوا کاروں میں سے پندرہ سعودی عرب کے شہری تھے اور القاعدہ دہشت گرد تنظیم کا سرغنہ اسامہ بن لادن بھی سعودی عرب کا شہری تھا۔ ریاست نبراسکا کے سابق سینیٹر کیری نے بھی جوگيارہ ستمبر کے واقعات کے بارے میں کانگریس کے تحقیقاتی کمیشن کے رکن تھے، کہا ہے کہ گيارہ ستمبر کے دہشت گردانہ حملوں میں سعودی حکومت کی ممکنہ شرکت کے بارے میں ثبوت و شواہد کی سنجیدگي سے تحقیقات نہیں ہوئي ہیں۔
سعودی عرب کے بادشاہ اور اعلی کمیشن نے گيارہ ستمبر میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کے ثبوت و شواہد کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ آل سعود گيارہ ستمبر کے واقعات میں ملوث نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ شام اور عراق کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب دہشت گردوں کی فوجی اور مالی نیز سیاسی حمایت کر کے ان ملکوں میں بدامنی پھیلا رہا ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل نے تیونس کانفرنس میں کہا تھا کہ شام کے مخالفین کو مسلح کرنا سب سے اچھی تجویز ہے۔ .......