ابنا: ایران گیس پائپ لائن پروجکٹ کوعملی جامہ پہنانےکےلئے پاکستان کی ہمہ گیر کوششوں پر ہیلری کلنٹن سمیت امریکی حکام ميں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے اور اسی بنا پر امریکی وزیرخارجہ نے دھمکی دی ہےکہ تہران اسلام آباد گیس معاہدے کےعملی جامہ پہننے کی صورت میں پاکستان امریکی پابندیوں کانشانہ بنےگا۔
ایران پاکستان معاہدےکےمطابق ایران پاکستان کوسالانہ آٹھ ارب سات سوملین مکعب میٹرگیس برآمد کرےگا۔لیکن امریکی وزیرخارجہ نےجو واشنگٹن کی جانب سے ایران کےتیل کےبائیکاٹ کےذریعے تہران پردباؤ ڈالنےکی کوششوں کوناکام دیکھ رہی ہیں، ایران پاکستان گیس معاہدے کوناقابل وضاحت قرار دیاہے۔
جبکہ پاکستان، اسلامی جمہوریہ ایران کےساتھ اپنےتعاون کےفروغ کو اپنی خودمختاری اورقومی اقتداراعلی کےتناظر میں دیکھتاہے اوراس سلسلےمیں امریکی مداخلت کاسخت مخالف ہے۔اوراس سےبڑہ کریہ کہ پاکستان کوانرجی کی شدیدقلت کاسامناہے اوراس کی وجہ سےعوام پرسخت دباؤ ہے ۔ پاکستان کےصنعتی مراکز گیس کی قلت کی وجہ سے یکےبعد دیگرے بند ہورہے ہیں جس سے اس ملک کی معاشی ترقی پرمنفی اثرپڑ رہا ہے۔
اوریہی وجہ ہے کہ ایران کی قومی گیس کمپنی کےڈائرکٹر جواد اوجی کےبقول پاکستان نہ صرف گیس پائپ لائن پروجکٹ پرعمل درآمد میں تیزی چاہتاہے بلکہ گیس کی برآمدات میں روزانہ تیس ملین مکعب میٹرکااضافہ چاہتاہے۔
انرجی کےشعبےمیں پاکستان اورایران کاتعاون صرف گیس تک محدود نہيں ہے بلکہ پاکستان ایران سےبجلی بھی درآمد کرتاہے ۔ اس سال سردی کےموسم میں پاکستان کےاکثرعلاقوں میں روزانہ اٹھارہ گھنٹوں تک بجلی غائب رہی ہے۔
اسی بنا پر پاکستان کی وزیرخارجہ نےتاکیدکےساتھ کہاہےکہ ان کےملک کےقومی مفاد کاتقاضہ ہے کہ وہ جہاں سےبھی مصلحت سمجھےگا اوراس کےمفاد میں ہوگا وہاں سے ایندھن خریدےگا۔ ادھرامریکہ کی جانب سے ایٹمی تعاون کےمعاہدےکےذریعے انرجی کی ضرورت پوری کرنےمیں ہندوستان کی ناکامی نے نئی دہلی اور اسلام آباد کواس نتیجےپرپہنچادیاہے کہ وہ اپنی قومی ضروریات اورمفادات کو امریکہ کےناجائز اورمفاد پرستانہ مطالبات کی بھینٹ نہيں چڑھا سکتا اور یہی وجہ ہےکہ ہندوستان بھی امریکی دباؤ کونظرانداز کرتےہوئے ایران سےتیل کی خریداری کاسلسلہ جاری رکھےہوئےہے۔ ..........
/169