ابنا: شام میں نئے بنیادی آئین کے بارے میں ہونے والے ریفرینڈم میں صبح سے ہی بھرپور شرکت کا مظاہرہ کیا گیا جس سے اصلاحات کا پروگرام جاری رکھے جانے کیلئے شامی عوام کے رجحان کا پتہ چلتا ہے۔
ریفرینڈم میں شرکت کیلئے صبح سے ہی شامی عوام چودہ ہزار ایک سو پچاسی پولنگ مراکز پر نظر آئے جبکہ ان مراکز کی سرگرمیاں رات دس بجے تک جاری رہیں۔ معائنہ کرنے والے مصر اور اردن کے وفود کے اراکین نے اس تاریخی دن میں شامی عوام کے کارنامے کو بہت زیادہ سراہا اور ان کے اس اقدام کو سازش پسند عناصر کے منھہ پر زور دار طمانچے سے تعبیر کیا۔
شام کے وزیر اطلاعات و نشریات عدنان محمود نے بھی کل دمشق میں ہندوستان کے صحافیوں اور نامہ نگاروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام میں نئے بنیادی آئین کے بارے میں ہونے والے ریفرینڈم کی سو سے زائد سیاسی و قانونی شخصیات نے نگرانی کی۔
شام کے عوام نے ریفرینڈم میں شرکت کرنے کے بعد مختلف نیوز ایجنسیوں سے اپنی گفتگو میں اصلاحات کے پروگرام پر اپنی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
انھوں نے کہا کہ ان کے ملک کا نیا بنیادی آئین شام کا مستقبل درخشاں بنائے گا اور سماجی انصاف ۔ قانون کی بالا دستی ۔ حقوق کے احترام۔ آزادی کے تحفظ۔ ۔ روزگار اور مفت تعلیم و سماجی خدمات اور حفظان صحت کیلئے مزید اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔
دریں اثنا شام میں نئے بنیادی آئین کے بارے میں ہونے والے ریفرینڈم اور اس ملک کے مستقبل پر اس کے پڑنے والے اثرات کے بارے میں ردّ عمل ظاہر کئے جانے کا عمل بھی بدستور جاری ہے۔ اس سلسلے میں شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے ہونے والے ریفرینڈم میں شرکت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیا آئین ملک کو نئے مرحلے میں داخل کردیگا اور یہ کہ مغربی ملکوں کو چاہئے کہ شام کے داخلی امور میں مداخلت کرنے کے بجائے اپنے اندرونی مسائل پر توجہ دیں۔
انھوں نے کہا کہ شام اپنے اس نئے آئین کے ساتھہ ماضی سے کہیں زیادہ مضبوطی کے ساتھہ آگے بڑھے گا۔ شام کے وزیر خارجہ نے کہا کہ شام میں نئے بنیادی آئین کے بارے میں ہونے والے ریفرینڈم میں عوام کی وسیع پیمانے پر شرکت اور ان کی جانب سے ریفرینڈم کا شاندار خیر مقدم اپنے ملک کے قومی مفادات اور اہداف و مقاصد سے شامی عوام کی آگاہی کو ثابت کرتا ہے۔
شام کے نائب وزیر داخلہ حسن الجلالی نے بھی تاکید کے ساتھہ کہا کہ ان کے ملک میں ہونے والے ریفرینڈم کی کامیابی شام کی تقدیر بدل کر رکھہ دیگی اسلئے کہ اس ریفرینڈم کی بنیاد پر بہت سے قوانین تبدیل ہوجائیں گے۔
شام میں نئے بنیادی آئین کے بارے میں ہونے والے ریفرینڈم کا اس ملک کے عوام کی جانب سے ایسی حالت میں وسیع پیمانے پر خیر مقدم کیا گيا ہے کہ اس ریفرینڈم کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں شامی عوام نے اپنے ملک کے صدر اور ان کی اصلاحات کی حمایت نیز شام کے اندرونی مسائل میں مغربی اور بعض عرب ملکوں کی مداخلت کی مذمّت میں بھرپورمظاہرہ کیا.........
/169