ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی نیشنل آئل کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے آج جنوبی ایران کے علاقے عسلویہ میں پارس نامی توانائی کےخصوصی علاقے میں تیسری قومی کانفرنس میں کہا کہ کئی ملکوں نے ایران کے تیل کی خریداری کیلئے مذاکرات کئے ہیں اور کئی ملکوں کے ساتھہ گفتگو جاری ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے ایران کے تیل کے بائیکاٹ کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران نے بیرونی کمپنیوں کو اپنا تیل فروخت کرنے کیلئے کچھہ شرطیں عائد کی ہیں جن میں دراز مدت سمجھوتے طے کرنے اور بروقت قیمت کی ادائیگی شامل ہے۔
جیساکہ ایران کی نیشنل آئل کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر احمد قلعہ بانی نے اس تیسری قومی کانفرنس میں تاکید کے ساتھہ کہا ہے کہ آئندہ جولائ سے ایران سے تیل کی درآمدات بند کرنے پر مبنی یورپی ملکوں کے سربراہوں کے فیصلے کے بعد ایران کی قومی آئل کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ ایران سے تیل خریدنے والی کمپنیوں کو تہران کے ساتھہ دو سے پانچ سالوں کے غیر مشروط سمجھوتوں پر دستخط کرنا ہوں گے اور تیل کی قیمت کی ادائیگی بھی بر وقت کرنا ہوگی۔ ایران کی نیشنل آئل کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر احمد قلعہ بانی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ایران دیگر کمپنیوں کے ساتھہ طے پانے والے سمجھوتوں کے دائرے میں اپنے تمام معاہدوں کا پابند ہے صراحت کے ساتھہ کہا کہ ایران سے تیل خریدنے والی کمپنیوں کو بھی اپنے دستخط شدہ سمجھوتوں پر کار بند رہنا ہوگا ورنہ ان سمجھوتوں پر نظر ثانی کی جائیگی۔ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا میں تیل پیدا کرنے والا ایک اہم ترین ملک ہے اور ایران میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر اورگنجائشوں کے پیش نظر توانائ کے شعبے میں ایران کے اس فیصلے کا علاقائ و عالمی سطح پر کافی اثر پڑے گا۔
ایران کی جانب سے برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں کو تیل کی فروخت بند کئے جانے کے فیصلے کا نہ فقط عالمی ذرائع ابلاغ میں وسیع پیمانے پر انعکاس ہوا بلکہ تیل کی قیمتیں بڑھنے کا باعث بھی بنا جیساکہ بحیرۂ شمال کے برنٹ تیل کی قیمت فی بیرل 123 ڈالر سے بھی بڑھ گئی بنابریں ایران کے تیل کے بائیکاٹ کے بارے میں جو یومیہ 22 سے 23 لاکھہ تک بیرل تیل برآمد کرتا ہے یورپی یونین کا فیصلہ یقینی طور پر بائیکاٹ کرنے والے ان ملکوں کے نقصان پر منتج ہوگا جنھیں اس وقت بنیادی اقتصادی مشکلات اور اسی طرح شدید سردی کا سامنا ہے۔
ایران کے تیل کے بائیکاٹ کے بارے میں یورپی یونین نے ایسی حالت میں اپنے فیصلے کا اعلان کيا ہے کہ ایران کے تیل کی خریداری کیلئے نہ صرف نئی منڈیاں پائی جاتی ہیں بلکہ ایران کی صنعت اور تیل و گیس کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کا بھی ابتک الٹا ہی نتیجہ برآمد ہوا ہے۔
ایران کی نیشنل آئل کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر احمد قلعہ بانی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس وقت ایران کی نیشنل آئل کمپنی کے 140 ارب ڈالر کے منصوبے پر عملدرآمد جاری ہے کہا کہ ایران کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کے باوجود اس منصوبے پر گذشتہ سال سے ہی تیزی کے ساتھہ عملدرآمد ہورہا ہے۔ انھوں نے رواں شمسی سال کے دوران ایران کی نیشنل آئل کمپنی میں لگ بھگ 25 ارب ڈالر کے سمجھوتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال اس کمپنی میں مجموعی طور پر 35 ارب ڈالر سے زائد کے سمجھوتے ہوئے اور بائیکاٹ کے باوجود ایران کے تیل کی صنعت کو فروغ حاصل ہوا اوراس سلسلے میں اہم کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں جیساکہ آئندہ شمسی سال میں ایران کی وزارت پٹرولیم کی منصوبہ بندی کی بنیاد پر ایران کے تیل کی پیداوار میں پانچ فیصد اور گیس کی پیداوار میں بیس فیصد کا اضافہ ہوگا۔ چنانچے ایران کے تیل کی کوالٹی کے پیش نظر یورپ کی جانب سے اس سے چشم پوشی قیمت اور ماحولیات دونوں اعتبار سے بحران کا باعث بنے گی. ........
/169