22 جنوری 2012 - 20:30

سعودي عرب کے ہزاروں شہريوں نے آل سعود کے خلاف مظاہرےکئے ہیں۔

ابنا: سعودي عرب کے ہزاروں لوگوں نے ملک کے مشرقي علاقے ميں جلوس نکال کر آل سعود کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرين نے قطيف اور عواميہ شہروں ميں آل سعود کي حکومت کے مظالم کي مذمت کرتے ہوئے ان مظالم ميں ملوث عناصر پر مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کيا- واضح رہے کہ سعودي عرب کے مختلف علاقوں ميں مظاہروں کے دوران آل سعود کے سيکورٹي اہلکاروں کے ہاتھوں اب تک چھے افراد شہيد ہوچکے ہيں جبکہ سيکڑوں افراد کو گرفتار کرليا گيا ہے۔

سعودي عرب ميں آل سعود کے خلاف سن دو ہزار گيارہ ميں فروري کے مہينے سے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاري ہے- سعودي عرب ميں مظاہرين سياسي قيديوں کي آزادي اور دولت وثروت کي منصفانہ تقسيم کا مطالبہ کررہے ہيں۔انساني حقوق کي بين الاقوامي تنظيموں نے سعودي عرب ميں عوام کي وحشيانہ سرکوبي کي مذمت کرتےہوئے اس ملک ميں عوام کے حاليہ قتل عام کي تحقيقات کا مطالبہ کيا ہے۔

بحرين ميں مظاہرين پر فوجيوں کے وحشيانہ حملوں کا سلسلہ جاري ہے۔ منامہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق آل خليفہ حکومت کے فوجيوں نے نويدرات نامي گاؤں ميں حکومت کے مخالف نوجوانوں پر حملہ کرکے انہيں زدوکوب کيا اور کئي نوجوانوں کو گرفتار کرليا- اس رپورٹ کے مطابق بحريني اور سعودي فوجيوں نے لوگوں ميں خوف و ہراس پھيلانے کے لئے رہائشي علاقوں اور لوگوں کے گھروں پر آنسو گيس کے زہريلے گولے پھينکے۔

يہ ايسي حالت ميں ہے کہ منامہ ميں امريکي سفير نے اعلان کيا ہے کہ واشنگٹن آل خليفہ حکومت کو بچانے کے لئے کسي بھي کوشش سے دريغ نہيں کرے گا۔ العالم کے مطابق بحرين ميں امريکا کے سفير تھامس کرائسکي نے منامہ ميں ايک پريس کانفرنس ميں کہا ہے کہ امريکا بحرين کي سلامتي کو اپني سلامتي سمجھتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بحرين ميں چودہ فروري دو ہزار گيارہ سے عوام کي انقلابي تحريک جاري ہے جس کے دوران بحريني اور سعودي فوجيوں کے وحشيانہ حملوں ميں سيکڑوں افراد شہيد اور زخمي ہوچکے ہيں اور بڑي تعداد ميں لوگوں کو گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا ہے۔.........

/169