اسلامی جمہوریہ ایران کے جوانوں کے ہاتھوں اس طیارے کی رسد اور پھر اسے بحفاظت زمین پر اتارے جانے کی خبر نے امریکہ اور مغرب حلقوں کو بھونچکا کر کے رکھ دیا لہذا پہلے مرحلے میں تو انہوں نے روایتی انداز میں ایران کی اس کامیابی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور جب ان سے بن نہ پڑی تو اپنے ماتحت میڈیا اور وابستہ ذرائع ابلاغ کو حکم دیا کہ اس خبر کو زیادہ نہ اچھالا جائے کہیں ایسا نہ کہ عوام اپنی حکومتوں پر امریکی ڈرون طیاروں کو مار گرائے جانے کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کردیں۔ بہرحال RQ170 کے ایران میں بحفاظت اتارے جانے کی خبر جس نے بھی سنی وہ ایرانی جوانوں کی مہارت اور دلیری کی داد دئیے بغیر نہ رہ سکا اگرچہ ابتدا میں خبروں میں اس طیارے کے مار گرائے جانے کی بات کی گئی تھی جو اپنی جگہ خود ایک قابل ستائش کام تھا تاہم اس انتہائی سیکرٹ طیارے کو پینٹاگون کے ماہرین کے کنٹرول سے نکال کر اپنے کنٹرول میں لینا اس سے بھی بڑا اقدام تھا کہ جس پر اب بھی پینٹا گون کے حکام سکتے کی حالت میں ہیں۔ 44 ارب ڈالر مالیت کے اس انتہائی حساس اور خفیہ پروجیکٹ کے ملیا میٹ ہوجانے کی خبر کو جہاں عالم اسلام میں انتہائی خوشی اور مسرت کے ساتھ سنا گیا وہیں اس خبر کے منظرعام پر آنے سے وھائیٹ ہاؤس میں صف ماتم بچھ گئی۔ اس طیارے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود صدر اوباما نے اسلامی جمہوریہ ایران سے اس طیارے کی واپسی کی اپیل کی کہ جسے ایران نے سختی کے ساتھ مسترد کردیا۔امریکی جاسوس طیارہ آر کیو 170
آر کیو 170 امریکہ کا بغیر پائلٹ کا ایسا جاسوس طیارہ ہے جو سطح زمین سے پندرہ کلومیٹر کی اونچائی پر راڈار پر نظر آئے بغیر جاسوسی کا کام انجام دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی کمانڈوز کے آپریشن سے پہلے اس جاسوس طیارے نے چوبیس گھنٹے تک اس علاقے کی جاسوسی کی۔مشرق وسطی میں اس جاسوس طیارے کی موجودگي کی پہلی خبریں تقریبا چار سال قبل میڈیا میں آئی تھیں کہ جب پہلی بار اس طیارے کو افغانستان کے قندھار ہوائی اڈے پر مشقیں کرتے ہوئے دیکھا گيا۔اس کی ڈیزائننگ اور تیاری کے بارے میں تفصیلات میڈیا میں موجود نہیں تھیں، شاید اس کے بارے میں واحد چیز جو لوگ جانتے تھے یہ تھی کہ اس کی ظاہری شکل دوسری جنگ عظیم میں جرمنوں کے ایک پرانے ناکام منصوبے ایچ او 229 سے بہت ملتی جلتی تھی۔Rq 170 کیا ہے؟
آر کیو ایک 170 امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے بنایا ہے۔ یہ وہی مشہور امریکی کمپنی ہے جس نے ریاستہائے متحدہ امریکہ میں پہلے جیٹ جنگی جہاز کی تیاری کے وقت سے امریکی فوج کے تقریبا تمام انتہائی خفیہ طیاروں سے لے کر ایف 117 اور یو 2 طیارے بنائے ہیں۔ آر کیو ون( کوڈ (RQ1) اس جاسوس طیارے کا نام ہے جو اس کے غیرمسلح ہونے کی علامت ہے۔ اس کے باوجود ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آر کیو 170 جاسوس طیاروں کی کون سی قسم سے تعلق رکھتا ہے، گلوبل ہاک جیسا طویل فاصلے تک پرواز کرنے والا اسٹریٹجک جاسوس طیارہ یا ٹیکٹیکی جاسوسی کے لیے درمیانے فاصلے تک پرواز کرنے والا طیارہ، کہ جس کا احتمال زیادہ ہے۔
راڈار پر نظر نہ آنے والے اس طیارے کو امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن نے بنایا ہے اور اس میں ہتھیار نصب نہیں ہوتے ہیں۔ اس کے پروں کا درمیانی فاصلہ بیس میٹر اور وزن تقریبا تین ہزار پانچ سو کلوگرام ہے۔ اس طیارے کی بہت کم تصویریں منظرعام پر آئی ہیں کیونکہ یہ طیارہ دوسرے کئي بغیر پائلٹ کے طیاروں خاص طور پر X-47B سے مشابہت رکھتا ہے اور اسی بنا پر جو تصاویر منظرعام پر آئیں وہ ممکن ہے آر کیو 170 طیارے کی دقیق تصاویر نہ ہوں۔ فنی لحاظ سے آر کیو 170 کو دنیا کا جدید ترین البتہ انتہائی خفیہ جاسوس طیارہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ لاک ہیڈ مارٹن کمپنی نے اس جاسوس طیارے کی ڈیزائننگ میں ہر ممکن ظرافت و مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس بات کو طیارے کے بغیر کور کے ایئر والوز سے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اس طیارے کے انجن کا معمہ بھی ابھی تک حل طلب ہے۔ماہرین کی اس کے بارے میں رائے اس سے ملتے جلتے دوسرے جاسوس طیاروں کے تجربات کے پیش نظر اور اس کی ممکنہ رفتار کو مدنظر رکھے بغیر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ طیارہ تقریبا پچاس ہزار فٹ یا پندرہ ہزار میٹر کی بلندی پر پرواز کرتا ہوگا۔ آر کیو 170 کو موجودہ دوسرے جاسوس طیاروں کی مانند سیٹلائٹ کے ذریعے کنٹرول کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گيا ہے۔ اگرچہ اس پراسرار جاسوس طیارے کے بارے میں اطلاعات و معلومات اور حتی تصاویر بہت ہی کم منظرعام پر آئی ہیں لیکن ہم اتنا ہی جانتے ہیں کہ اس طیارے کے دو پروں کا درمیانی فاصلہ بیس سے ستائيس میٹر ہے۔ اس طیارے کا الیکٹرونک اور اصلی سسٹم پروں کے اندر لگایا ہے لیکن اس کی حقیقت و ماہیت کا اندازہ صرف طیارے کی ظاہری شکل دیکھ کر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ طیارہ یقینا الیکٹرو آپٹیکل ٹی وی سسٹم کا استعمال کرتا ہے جس کا سیٹلائٹ سے رابطہ ہوتا ہے اور یہ 256 بائٹ پاس ورڈ کا استعمال کرتا ہے۔ اس قسم کے رابطوں کی دس سے گيارہ عدد کے کوڈ سے حفاظت کی جاتی ہے جو مواصلات کی دنیا میں قابل ذکر سکیورٹی کے حامل تصور کیے جاتے ہیں۔
اس کلاس اور کیٹگری کے بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے عام طور پر آپریشن کے تمام مراحل پہلے سے دیے گئے گرافیک نقشوں کے مطابق آٹومیٹک طریقے سے انجام دیتے ہیں اور دریافت شدہ معلومات اور تصاویر اسی لمحے کنٹرول روم منتقل کرتے ہیں۔ پہلے سے دیے گئے ان نقشوں کو سیٹلائٹ کے ساتھ جاسوس طیارے کا رابطہ منقطع ہونے کی صورت خودکار طریقے سے اپنے اڈے پر واپس پہنچنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر ہر پرواز سے پہلے آپریشن کے علاقے کا نقشہ طیارے کے کمپیوٹر میں فیڈ کر دیا جاتا ہے۔
جاسوس طیارہ کیوں؟ کلی طور پر بغیر پائلٹ کے طیارے خاص طور پر وہ جنہیں سیٹلائٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے، بدستور بہت سی مشکلات کا شکار ہیں۔ امریکی فوج نے عراق پر حملے سے لے کر اب تک سینکڑوں چھوٹے بڑے جاسوس طیارے جاسوسی کی کارروائياں اور حملے کرنے کے لیے مشرق وسطی کے علاقے میں بھیجے ہیں کہ جن میں سے ایک تہائی سے زیادہ حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گئے۔ موجودہ جاسوس طیارے آپریشنل حالات میں بہت زیادہ حادثات کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ اکثر دیکھا گيا کہ اس کو کنٹرول کرنے والے کی لاپرواہی یا ناتجربہ کاری کی وجہ سے طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا یا سیٹلائٹ سے رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی بغیر پائلٹ کے طیارے کا کنٹرول، اس کے کنٹرول روم کے ہاتھ سے نکل گيا۔اس قسم کی مشکلات کے باوجود اس سکے کے دوسرے رخ سے بھی غافل نہیں رہنا چاہیے۔ حقیقتا اس سطح پر جاسوس طیارے کے بہت زیادہ کمزور نقاط تلاش نہیں کیے جا سکتے کیونکہ اس قسم کے طیارے اپنے جیٹ انجن اور ایئر والوز کی بنا پر بےآواز ہوتے ہیں اور زیادہ بلندی پر پرواز کرنے کی بنا پر دکھائی بھی نہیں دیتے ہیں۔ ان تمام خوبیوں نے پائلٹ والے طیاروں کی جگہ اس قسم کے بغیر پائلٹ کے طیاروں کے استعمال کو زیادہ کارآمد بنا دیا ہے۔ آر کیو 170 میدان جنگ میںآر کیو 170 پہلی بار چھ سال قبل آپریشنل ہوا کہ جب امریکی ایئرفورس کے 432 ونگ کے جاسوسی اسکواڈرن ایم-30 نے اپنا پہلا سفید رنگ کا جاسوس طیارہ تحویل میں لیا۔ آر کیو 170 اس کے صرف دو سال بعد ہی چپ چاپ قندھار ہوائی اڈے پر تعینات کر دیا گيا۔قندھار ہوائی اڈے پر اس طیارے کی پہلی تصاویر منظرعام پر آنے کے بعد چونکہ اس وقت اس طیارے کا نام بھی پوشیدہ رکھا گیا تھا، اس کو بیسٹ آف قندھار کا نام دیا گیا۔ جو بہت جلد مشہور ہو گیا۔علاقے میں اس طیارے کی تعیناتی اور پرواز سے یو 2 جاسوس طیارے کی پروازیں کم ہو گئيں کہ جسے افغانستان پر امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے حملے کے وقت گلوبل ہاک طیارے کے ساتھ علاقے میں تعینات کیا گیا تھا۔ دوسری طرف اس جاسوس طیارے کی تعیناتی یہ امکان بھی فراہم کر رہی تھی کہ طیارے کی ان ہی خصوصیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی محاذآرائی کے بغیر جاسوسی کی کارروائیوں کا دائرہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک تک بڑھا دیا جائے۔ خاص طور پر اس لیے کہ تھیوری کے لحاظ سے صرف لانگ رینج کے راڈار ہی وہ بھی خاص حالات میں اس قسم کے طیاروں کا سراغ لگا سکتے ہیں اور اس کا بھی عملی طور پر تجربہ نہیں کیا گيا تھا۔جزیرہ نمائے کوریا میں کشیدگی میں اضافے کے بعد 2010 میں آر کیو 170 طیاروں سے لیس جاسوسی کے یونٹوں کو جنوبی کوریا منتقل کیا گیا تاکہ شمالی کوریا کی میزائل سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔
اگست 2010 سے کہ جب پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا امکان قوی ہوگیا، افغانستان میں آر کیو 170 کے آپریشنوں میں ایک بار پھر تیزی آ گئی۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ اس بار ایک ٹی وی رابطہ سسٹم بھی اس کے ساتھ منسلک کیا گيا۔ کہا جاتا ہے کہ آر کیو 170 کے یونٹوں نے اس عرصے کے دوران اس علاقے کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی کہ جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اسامہ بن لادن وہاں چھپا ہوا ہے۔ مبینہ طور پر یہ آپریشن کہ جس میں امریکی کمانڈوز نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی خفیہ رہائش گاہ پر حملہ کیا اور جس میں وہ امریکی فوجیوں کے ہاتھوں مارا گیا، آر کیو170 کی تیز نگاہوں کی نگرانی میں انجام پایا۔ امریکی صدر باراک اوباما نے اس آپریشن کو براہ راست دیکھا اور اس کی نگرانی کی اور پاکستان کا فضائی دفاع کا سسٹم اس پورے عرصے کے دوران جاسوس طیارے کی پاکستان میں موجودگی سے لاعلم رہا۔ پاکستان کی فضائی حدود کی سنگین خلاف ورزی پر پاکستانی حکام نے سخت غصے کا اظہار کیا۔ایران میں امریکی ڈرون طیارے کو بحفاظت اتار لینے کے بعد اب پاکستان میں بھی بعض حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پاکستان پر امریکہ کے ڈرون حملوں کو روکا جائے اور نہ رکنے کی صورت میں ان طیاروں کو مار گرایا جائے۔بہرحال ایران کی جانب سے امریکہ کا ڈورن طیارہ شکار کیے جانےکے بعد اب امریکہ کی اس میدان مین ٹیکنالوجی کی برتری کا بھرم ٹوٹ گیا ہے اور امریکہ کے اس مہنگے پروجیکٹ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گيا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110



