14 جنوری 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا ہے کہ ایران نے عالمی اداروں میں ایٹمی سائنس داں مصطفی احمدی روشن کے قاتلوں کا پتہ لگانے کی کاروائي شروع کردی ہے۔

ابنا: رامین مہمان پرست نے گذشتہ روز صحافیوں سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ جن لوگوں نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کے بہانے ایرانی ایٹمی سائنس دانوں کے ناموں کی فہرست دہشتگردوں کو دی ہے وہ بھی ایران کے ایٹمی سائنس دانوں کی ٹارگٹ کلنگ میں شریک ہیں اور تہران اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس مسئلے کی پیروی کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی وزارت خارجہ نے امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں کو خطوط بھیج کر ایران کے ایٹمی سائنس دانوں کے خلاف دہشتگردوں کی حمایت پر احتجاج کیا ہے اور ان حکومتوں سے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی سائنس دانوں کی ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کو ترقی سے روکنے میں سامراج کی پے در پے شکستوں کے بعد سامراج نے ایرانی شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کا حربہ اپنایا ہے اور یہ کسی بھی معیار کے مطابق قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران نے آئي اے ای اے کے ماہرین کو اپنی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرنے کی دعوت دیکر اپنی نیک نیتی اور اپنے ایٹمی پروگرام کے شفاف ہونے کا ثبوت دیا ہے۔
........ 
/169