ابنا: بان کي مون نے صحافيوں سے بات چيت کرتے ہوئے کہا کہ انہيں اميد ہے کہ ايران اور امريکہ مذاکرات کے ذريعے باہمي اختلاف حل کريں گے-
بان کي مون کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہيں کہ پرامن بات چيت کے ذريعے موجودہ کشيدگي کو دور کيا جاسکتا ہے- اقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل نے کہا کہ ايران کے جوہري پروگرام کے حوالے سے عالمي برادري کي تشويش بدستور باقي ہے اور ہميں توقع ہے کہ اقوام متحدہ کے ايک رکن کي حیثيت سے ايران سلامتي کونسل کي قرار دادوں پر پوري توجہ دےگا-
بان کي مون کا يہ بيان ايسے وقت ميں سامنے آيا ہے جب ايران کئي بار اعلان کرچکا ہے کہ اسکا جوہري پروگرام مکمل طور سے پرامن ہے اور اسے ايٹم بم بنانے ميں کوئي دلچسپي نہيں ہے-
جوہري توانائي کے عالمي ادارے آئي اے اي اے نے بھي اپني حاليہ رپورٹ ميں ايسے کوئي ثبوت پيش نہيں کئے ہيں جن سے پتہ چلتا ہو کہ ايران کي جوہري سرگرمياں فوجي مقاصد کي جانب منحرف ہوگئي ہيں-................
/169