اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عربستان کے منطقۃالشرقیہ میں آل سعود کے ہاتھوں پرامن مظاہروں کو تشدد کرکے کچلنے کی بنا پر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے آل سعود کے خلاف نعرے لگائے اور الشرقیہ کے حکمران محمد بن فہد کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے شہداء اور اسیروں کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں اور بے گناہ اسیروں کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے۔ــ سعودی عرب: العوامیہ میں آل سعود کے خلاف مظاہرے العوامیہ کے عوام نے آل سعود کی طرف سے عوام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے گذشتہ مہینے سعودی تشدد اور فائرنگ سے شہید ہونے والے نوجوانوں کے قاتلوں کو سزادینے کا مطالبہ کیا۔اطلاعات کے مطابق گذشتہ مہینے آل سعود کے گماشتوں نے پرامن مظاہرین پر فائرنگ کرکے چار نوجوانوں کو شہید کردیا تھا۔الشرقیۃ کے عوام نے کل کے مظاہروں میں ان نوجوانوں کے قاتلوں پر مقدمہ چلانے اور انہیں قرار واقعی سزا دینے نیز الشرقیہ کے تا حیات حکمران محمد بن فہد کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین، جنھوں نے شہداء اور اسیروں کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں، نے آل سعود، خاص طور پر سعودی گورنر محمد بن فہد کے خلاف نعرے لگائے۔دریں اثناء منطقۃالشرقیہ کی خواتین نے بھی مظاہرے کئے اور محمد بن فہد کی برطرفی، اسیروں کی رہائی اور شہداء کے قاتلوں سے قصاص لینے کا مطالبہ کیا۔ ان مظاہروں پر بعض مشکوک غنڈوں نے ہوائی فائرنگ اور بعد میں معلوم ہوا کہ فائرنگ کرنے والے "پاکستان اور بھارت" سے لائے گئے کرائے کے جلادوں نے کی تھی جو فائرنگ کے بعد بھاگ کر القطیف کے پولیس مرکز میں گھس گئے۔
ــ عربستان: منطقۃ الشرقیہ میں عربستانیوں کے مظاہرے القطیف کے عوام نے اپنے مظاہرے میں الشرقیہ کے تا حیات گورنر محمد بن فہد کی برطرفی، بھلائے گئے اسیروں کی رہائی اور شہداء کے قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق القطیف کے عوام نے آل سعود کے شدید سیکورٹی انتظامات کے باوجود "شہید کا خون تبدیلی کا پیش خیمہ" کے عنوان سے مظاہرے کئے اور ہزاروں افراد نے ان مظاہروں میں شرکت کی۔ القطیف کے مظاہرے کے شرکاء نے عربستانی عوام کے درمیان اتحاد اور یکجہتی پر زور دیتے ہوئے اسیروں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے 16 سال قبل مقدمہ چلائے بغیر قید کئے جانے والے فراموش افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ قطیف کے علاوہ العوامیہ میں بھی مظاہرے ہوئے اور اس شہر کے نوجوانوں نے بھی اپنے جائز مطالبات کو دہرایا۔ گذشتہ بدھ کے روز بھی القطیف، العوامیہ اور التاروت کے عوام نے مظاہرے کئے اور آل سعود کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کی مذمت کی۔آل سعود کے گماشتوں نے القطیف میں عوام کے پرامن مظاہروں کا جواب گولی سے دیا۔ التاروت میں ہونے والے مظاہرے میں عربستانی مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر "قوم انسانی حقوق چاہتی ہے"، جیسے نعرے درج تھے۔ایک اور اطلاع کے مطابق تیل کی دولت سے مالامال منطقۃالشرقیہ کے عوام نے اپنے مظاہروں کے دوران ہزاروں سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ عربستانیوں نے پرامن اور نہتے عوام پر آل سعود کے تشدد کی مذمت کی۔عربستانی عوام کا مطالبہ ہے کہ آل سعود کی حکومت عوام کو سیاسی آزادیاں دے اور سیاسی قیدی فوری طور پر رہا کئے جائیں۔سعودی سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ سعودی اذیتکدوں میں 30 ہزار سیاسی قیدی پابند سلاسل ہیں اور ان کو جسمانی اور نفسیاتی ٹارچر کا سامنا ہےعربستان کے مشرقی علاقوں میں گذشتہ مہینے آل سعود کے گماشتوں کے ہاتھوں چار نوجوانوں کی شہادت کے بعد سے اب تک مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ دریں اثناء ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پر امن مظاہروں کو طاقت استعمال کرکے کچلنے کے سعودی اقدامات کی مذمت کی ہے۔آل سعود کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود نے سنہ 2011 کے آغاز سے عرب ممالک میں شروع ہونے والے انقلابات کی مخالفت کی ہے اور آل سعود کے گماشتے شمالی افریقہ سے لے کے خلیج فارس تک کے ممالک میں مداخلت کرکے ان انقلابات کو ناکام بنانے میں مصروف ہیں اور عراق، شام اور پاکستان میں تکفیری وہابیوں کی مدد کررہے ہیں۔آل سعود نے بحرین اور یمن کے انقلابات کو ناکام بنانے کے لئے براہ راست مداخلت کی ہے اور تمام ڈکٹیٹروں کی حمایت کررہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ اس خاندان کو ـ جو اب قطر کے ٹنی اسٹیٹ کی طرف سے بھی چیلنجوں کا سامنا کررہا ہے ـ بہت جلد ملک گیر عوامی انقلاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ــ عرب حکمران عوامی مطالبات سے خوفزدہ ہیںعربستانی محقق نے سنہ 2011 کو بنیادی حقوق کے مطالبے حوالے سے خلیج فارس کی ریاستوں کے لئے ایک اہم تاریخی موڑ قرار دیا اور کہا: عرب حکمران عوامی مطالبات سے خلاصی پانے کے لئے آپس میں متحد ہورہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق فؤاد ابراہیم نے کہا: آل سعود کے بادشاہ نے حال ہی میں خلیج فارس تعاون کونسل کو یونین میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کرکے واضح کردیا کہ عرب ڈکٹیٹر عوامی بیداری سے بری طرح خائف ہیں اور وہ عوامی مطالبات سے بچنے کے لئے متحد ہونا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا: عبداللہ کی دعوت کونسل کی تشکیل کے 30 سال بعد سامنے آرہی ہے جبکہ اس مدت میں ان ریاستوں کے درمیان کسی قسم کا اتحاد دیکھنے میں نہیں آیا ہے چنانچہ یہ دعوت قوموں کے اتحاد کے لئے نہیں ہے بلکہ حکمرانوں کو متحد کرنے کی کوشش ہے تا کہ وہ مل کر عوام کی بیداری کی تحریکوں اور ان کے مطالبات سے چھٹکارا پائیں۔ فؤاد ابراہیم نے کہا: اس طرح کا اتحاد تشکیل دینے کے لئے جمہوری ملکوں میں ریفرینڈم کرایا جاتا ہے لیکن چونکہ خلیج فارس کی ریاستوں پر مسلط خاندانوں کو حکمرانی کا قانونی جواز حاصل نہیں ہے اسی لئے وہ آپس میں متحد ہورہے ہیں تا کہ عربی بہار کا راستہ روک سکیں۔
ــ قطری وزیر اعظم: آل سعود کی حکمرانی کا خاتمہ قطر کے ہاتھوں ہوگا انٹرنیٹ کے ذریعے شائع ہونے والے ایک آڈیو کلپ کے مطابق آل ثانی کے وزیراعظم نیز وزیر خارجہ نے سابق لیبیائی ڈکٹیٹر معمر القذافی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود کا دور گذرگیا ہے اور یہ خاندان قطر کے حکمرانوں کے ہاتھوں سرنگوں ہوگا۔اطلاعات کے مطابق حمد بن جاسم بن جبر نے اس خفیہ گفتگو میں کہا ہے کہ آل سعود بے شک آل ثانی کے ہاتھوں سرنگوں ہوگا اور قطر کسی دن ضرور سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں داخل ہوگا اور عربستان تقسیم ہوجائے گا۔کـچھ عرصہ قبل آل ثانی خاندان کے قطری امیر نے فرانسیسی حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا تھا کہ سعودی عرب پر حاکمیت کا حق ان کے خاندان کو حاصل ہے دیکھئے:[آل ثانی: میرے خاندان کو سعودی عرب پر حاکمیت کا حق ہے/ قطری شیخ کے کرتوتوں پر مبنی][قطری وزیراعظم: آل سعود کا زوال قطر کے ہاتھوں ہوگا]ایک سعودی شہزادے طلال ابن عبدالعزیز آل سعود نے کہا تھا کہ قطر کا حکمران خاندان سعودی عرب کو تقسیم کرنا چاہتا ہے:[قطر سعودی عرب کو تقسیم کرنا چاہتا ہے / طلال بن عبدالعزیز کے اہم انکشافات]قطر کے امیر نے حال ہی میں قطر کے قومی دن کے حوالے سے سعودی حکومت کو وہابیت کے ہتھیار سے محروم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دوحہ میں ایک بہت بڑی مسجد کا افتتاح کیا اور اس کو مسجد محمد بن عبدالوہاب کا نام دیا اور کہا کہ ان کے آباء و اجداد محمد بن عبدالوہاب کے مرید تھے اور انھوں نے عرب دنیا اور بھارت سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں وہابیت کو فروغ دیا ہے؛ دیکھئے:[آل ثانی خاندان کے حکمران وہابیت کے حلقہ بگوش / اہم واقعہ]قطری وزیر اعظم نے کہا تھا کہ آل سعود کی حکومت فرسودہ اور غیر مستحکم اور اس خاندان کے بادشاہ کمزور، عاجز اور مسکین ہیں اور عربستان کی فوج میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔شیخ حمد بن جاسم کرنل قذاقی سے کہہ رہے تھے کہ امریکہ اور برطانیہ نے ان سے عربستان کے اندرونی حالات کے بارے میں رپورٹ مانگی ہے اور ان کا فیصلہ یہ ہے کہ اس ملک میں سعودی خاندان سے چھٹکارا پانا چاہئے تاہم لندن اور واشنگٹن اس ملک میں اسلام پسندوں کے برسر اقتدار آنے سے تشویش لاحق ہے گو کہ وہ آل سعود سے بہرصورت جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا: ان ہی حالات کے پیش نظر قطر نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا ہے اور سعودی عرب سے مراعاتیں لے لی ہیں اور امریکی افواج کو عربستان سے نکلوا کر اپنی سرزمین پر تعینات کروایا ہے۔ شیخ حمد نے کہا: ہم نے سعودی عرب کا اثر و رسوخ بری طرح کمزور کردیا ہے اور اپنے آپ کو علاقے پر مسلط کرچکے ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ: قطر سعودی عرب کو معاشی اور سیاسی حوالے سے بھی نقصان پہنچانے کے درپے ہے اور بہت جلد اس ملک میں ایک عوامی انقلاب بھی شروع کروایا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا: قطر کی کوششوں سے آل سعود کی حکومت سرنگوں ہوکر رہے گی۔
ــ آل سعود نے عراقی شہریوں کے سرقلم کردیئےبین الاقوامی انسداد دہشت گردی و دینی انتہاپسندی کے مطابق آل سعود کے گماشتوں نے پرسوں دو عراقیوں کے سر قلم کردیئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی تنظیم برائے انسداد دہشت گردی و مذہبی انتہاپسندی کے سربراہ علی السرای نے کہا کہ آل سعود کے حکام نے پرسوں عراقی شہر السماوہ کے دو باشندوں احمد بھلول الظالمی اور علی صالح الزیادی کے سر قلم کردیئے اور انی کی لاشیں جیل کے قبرستان میں دفنا دیں۔ السرای نے عراقی صدر، وزیراعظم اور وزیر انسانی حقوق سے مطالبہ کیا ہے کہ آل سعود کی جیلوں میں قید بے شمار قیدیوں کو آل سعود کے ظلم سے بچانے کے لئے میدان میں اتریں۔ انھوں نے حکومت عراق سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اقدام کرکے عراقیوں کی گردن زنی کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند کردیں۔ــ سعودی حکمران عراق میں بدامنی پھیلانے کے درپے ہیںبعض عرب ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ عراق سے امریکی انخلاء کے بعد آل سعود نے عراق میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا شروع کردیا ہے اور سعودی حکمران عراق میں انارکی اور لاقانونیت پھیلانا چاپتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریاض کی حکومت نے عراق میں عدم استحکام، بد امنی، لاقانونیت اور انارکی پھیلانے کے سلسلے میں اپنی سازشیں ایک بار شروع کررکھی ہیں کیونکہ سعودیوں سمیت بعض دیگر عرب حکمرانوں کو ایک مستقل اور خودمخت