22 دسمبر 2011 - 20:30

عرب ليگ کے مبصرين کا پہلا گروہ دمشق پہنچ گيا ہے اس سے پہلے شام نے عرب ليگ کے ايک پروٹوکول پر دستخط کرکے ان مبصرين کو اپنے يہاں آنے کي اجازت دے دي تھي۔

ابنا: عرب ليگ کے مبصرين کا يہ گروہ جمعرات کي شام دمشق پہنچا خبروں کے مطابق خيال کيا جاتا ہے شام جانےوالے عرب ليگ کے مبصرين کي کل تعداد ڈيڑھ سو سے دو سوتک ہوگي اس گروہ کي قيادت سوڈان کے ايک فوجي جنرل محمد احمد مصطفي الدابي کريں گے شام کے حکام کا کہناہے کہ عرب ليگ کے ذريعے تيار کئے گئے پروٹوکول ميں دمشق نے جن اصلاحات کا مطالبہ کيا تھا ان کو کافي حدتک مد نظر رکھا گيا ہے شامي حکام کا کہنا ہے کہ اس پروٹوکول ميں ملک کي قومي سلامتي کا خاص خيال رکھا گيا ہے

شام کي وزارت خارجہ کے ترجمان جہاد المقدسي نے کہا ہے عرب ليگ کے مبصرين کي شام ميں کاميابي خود شام کے نفع ميں ہے کيونکہ ان مبصرين کي ذمہ داري شام کے حالات سے عالمي برادري کو باخبر کرنا ہے اور عرب ليگ کے مبصرين کو اس بات کا اندازہ ہوجائےگا کہ صورتحال ويسي نہيں ہے جس طرح سے عرب ليگ اور مغربي ممالک تصور کررہے ہيں عرب ليگ کے مبصرين کے گروہ کے سربراہ محمد احمد مصطفي الدابي نے بھي کہا کہ ان کے گروہ کے دورہ شام کا مقصد انساني اہداف کے تحت انجام پايا ہے

انہوں نے کہا کہ ہمارے اس دورے کا ايک خاص مقصد شام کے عوام کے لئے حمايت کا اظہار ہے انہون نے کہا کہ مبصرين کے اس گروہ ميں دوسو کے قريب افراد شامل ہوں گے جن ميں فوجي ماہرين وکلاء و قانون داں اور انساني حقوق کے لئے کام کرنےوالے لوگ سبھي شريک ہيں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے افراد شام کے مختلف شہروں ميں مختلف طبقوں سے تعلق رکھنےوالے افراد سے مليں گے شام کے نائب وزير خارجہ اور عرب ليگ ميں شام کے نمائندے نے گذشتہ پير کو قاہرہ ميں ايک پروٹوکول پردستخط کئے تھے جس کے مطابق عرب ليگ کے مبصرين کو شام کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کي اجازت دي گئي ہے اس درميان شام کے ايک سياسي تجزيہ نگار مازن بلال کا کہنا ہے کہ عرب ليگ نے شام کے بحران ميں اب تک غيرجانبدار انہ اور منصفانہ رويہ نہيں اپنايا ہے انہوں رشا ٹوڈے ٹيلي ويژن چينل سے گفتگو کرتے ہوئے عرب ليگ کے مبصرين کي دمشق آمد کے بارے ميں کہا کہ عرب ليگ نے اب تک مسلح افراد کي ان کاروائيوں کا کوئي نوٹس نہيں جن ميں شام کے سيکڑوں عام شہري اور فوجي مارے گئے ہيں بلکہ اس نے صرف آشوب بپا کرنےوالوں کي ہي حمايت کي ہے -

شام ميں گذشتہ مارچ کے مہينے سے عوام ملک ميں سياسي اصلاحات کے حق ميں پرامن مظاہرے کررہے تھے مگر امريکا اور علاقے کي بعض ديگرحکومتوں نےمظاہرين کي صفوں ميں دہشتگردوں کو روانہ کرکے شام ميں بدامني پھيلانے کي کوشش کي ہے جبکہ شام کي حکومت نے ملک ميں اصلاحات کے نفاذ کا وعدہ کررکھا ہے۔