اہل البیت (ع) نیوز ایجینسی- ابنا - کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر نبیل رجب نے کہا: بعض مبصرین کی یہ پیشنگوئی درست ثابت ہوئی ہے کہ فیکٹ فائنڈنگ کی خلیفی کمیٹی کے سربراہ البسیونی کی طرف سے رپورٹ شائع ہونے کے بعد ملک کی حالت کی بہتری کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی؛ اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بحرین کی صورت حال واقعی بہتر نہیں ہوئی ہے، گرفتاریاں، ٹارچر اور طاقت کا بےتحاشا استعمال جاری ہے اور لوگوں کے گھروں پر حملوں کا سلسلہ بھی نہیں رکا ہے۔
انھوں نےکہا کہ آل خلیفہ کی حکومت کی کارکردگی اور اس کے روزمرہ کے کرتوت دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ حمران خاندان اپنی کارکردگی بہتر کرنے اور اسیروں کو رہا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا؛ اسی رو سے احتجاج کرنے والی جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک بحرین میں انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ نہ رکا ہو وہ اپنی احتجاجی تحریک جاری رکھیں گے چنانچہ توقع کی جاتی ہے کہ آنے والے دنوں میں جھڑپوں میں شدت آئے گی۔نبیل رجب نے اقوام متحدہ کے ہیومین رائٹس کمیشن کے وفد کے دورہ بحرین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ وفد تحقیقاتی کمیٹی نہیں ہے اور اس کے آنے کا مقصد بحرین میں کئی مہینوں تک انسانی حقوق کی پامالی اور بسیونی کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی اشاعت کے بعد کے حالات کا جائزہ لینا ہے۔
انھوں نے کہا: یہ وفد اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کو رپورٹ دے گا اور عین ممکن ہے کہ اس رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد بحرین میں ایک تحقیقاتی ٹیم بھجوانے کی ضرورت کے بارے میں فیصلہ سازی ہوجائے اور یہ وہی چیز ہے جس کا آنے والے دنوں میں ہمیں انتظار ہے۔ انھوں نے کہا: یہ بات بالکل واضح اور آشکار ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت اپنی جارحیت اور ظلم و جبر پر مبنی اقدامات کو جاری رکھے ہوئے ہے اور بسیونی کی رپورٹ کی اشاعت عوام پر آل خلیفہ کے دباؤ میں کمی کا باعث نہیں ہوسکے گی۔ .......
/110
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
54ویں شہید کا جلوس جنازہ، خاتون کارکن گرفتار، بحرین میں تناؤ بڑھتا رہے گا