ابنا: جنرل محمد حجازی نے امریکی ڈرون کی ایرانی فضائي حدود کي خلاف ورزی اور اس ڈرون کو لوٹانے کی امریکی صدر کی درخواست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی طیارے کی کھلم کھلا جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے باوجود امریکی صدر سمیت اس ملک کے حکام بےشرمی سے جاسوس ڈرون کو لوٹانے کی بات کر رہے ہیں۔
جنرل حجازی نے اس سوال کےجواب میں کہ امریکی حکومت نے کئي دن بعد کس بناپر ڈرون کو لوٹانے کا مطالبہ کیا ہے، کہا کہ امریکی حکومت سوچتی ہے کہ وہ اس رسوائي پر پردہ ڈال سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی ماہرین کے ہاتھوں امریکی جاسوس ڈرون کا اتاراجانا ایرانی ماہرین کی اعلی توانائيوں اور ہرطرح کی جارحیت کے مقابل اسلامی جمہوریہ ایران کی صلاحیتوں نیز امریکہ کی ناتوانی کو ظاہر کرتا ہے۔
ادھر امریکی حکومت نے جو اپنے جاسوس ڈرون کے ایران میں اتارے جانے پر بری طرح بوکھلائي ہوئي ہے، اپنی جھینپ کو مٹانے کے لئے مزید دو ایرانی شخصیات پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ یہ پابندیاں انسانی حقوق کی پامالی کے بہانے لگائي گئي ہیں۔
امریکہ نے اس مرتبہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مشترکہ فوجی کمانڈ کے سربراہ جنرل سید حسن فیروزآبادی اور سپاہ پاسداران کی بری فوج کے نائب سربراہ جنرل عراقی پر پابندیاں لگائي ہیں۔.......
/169