12 دسمبر 2011 - 20:30

سعودی سیاستدانوں نے ملک گیر سطح پر مظاہروں کی کال دی / آل سعود کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے تیس ہزار ثبوت سعودی ولیعہد کا حکم نامہ: احتجاجیوں پر رحم نہ کرنا / آل سعود کی سازش، شیعہ عالم دین شیخ نمر کو دہشت گردی کا نشانہ بنایاجاسکتا ہے / شیعیان حجاز کے خلاف آل سعود کے ذرائع ابلاغ کی جھوٹی تشہیری مہم.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق 60 قانوندانوں کے حالیہ بیان نے آل سعود کی طرف سے کھڑی کی گئی خوف کی دیوار توڑ دی اور واضح ہوگیا کہ الشرقیہ کے علاقے میں اٹھنے والے مطالبات نہ صرف پوری قوم کو مطالبات ہیں بلکہ ان مطالبات میں روز بروز اضافہ بھی ہورہا ہے۔سعودی عرب میں اصلاح پسندوں نے ایک بیان جاری کرکے آل سعود کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بعض اصلاح پسندوں کو سنائی گئی سزائیں فورا منسوخ کرے اور القطیف میں تشدد جاری رکھنے سے باز رہے۔ انھوں نے سعودی عرب خاص طور پر منطقۃالشرقیہ میں ہونے والی تشدد آمیز کاروائیوں کے بارے میں غیرجانبدارانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔ قانوندانوں کے اس بیان نے آل سعود کو حیرت زدہ کردیا کیونکہ اس بیان پر شیعہ اور سنی مفکرین کے دستخط موجود ہیں بلکہ اس میں بیان ہونے والے مطالبات بھی بالکل واضح تھے اور اب سنی مفکرین اور راہنماؤں نے آئندہ جمعہ کو ملک گیر احتجاجی مظاہروں اور پرامن دھرنوں کی دعوت دی ہے جس سے سعودی عرب میں عوامی تحریک ملک گیر ہونے کی نوید مل رہی ہے۔ سعودی عرب میں گذشتہ دو دنوں کے واقعات:ــ سعودی سیاستدانوں نے ملک گیر سطح پر مظاہروں کی کال دیسعودی سیاستدانوں نے عمومی دعوت دے کر اسیروں کے خاندانوں اور عام لوگوں کو دعوت دی ہے کہ وہ ظالمانہ اقدامات، گرفتاریوں اور آل سعود کی پرتشدد کاروائیوں پر احتجاج کرنے کے لئے آنے والے روز جمعہ کو ملک گیر سطح پر پرامن دھرنوں اور مظاہروں میں شرکت کریں۔مظاہروں اور دھرنوں کی کال دینے والے سیاستدانوں، مفکرین اور سرگرم سیاسی و سماجی کارکنوں کا تعلق سنی مذہب سے ہے اور ان میں اکثر کے قریبی رشتہ دار ال سعود کے اذیتکدوں میں کسمپرسی کی حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں اور انھوں نے اپنی دعوت کے اسباب بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے قریبی افراد آل سعود کی بے انصاف عدالتوں کی جانب سے ظالمانہ سزائیں پانے کی بنا پر اسیر ہیں۔انھوں نے اپنی کال میں کہا ہے کہ بعض اسیر برسوں سے اپنے عزیزوں اور اہل خانہ سے نہیں مل سکے ہیں اور جیلوں کے دروازے برسوں قبل ان کے اہل خانہ پر بند کردیئے گئے ہیں۔مظاہرے کی کال دینے والے راہنماؤں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے مشائخ (مفتیوں اور مولویوں) نے انہیں دھوکا دیا ہے اور انھوں نے جب بھی آل سعود کے کسی ظلم پر منہ کھولنے کی کوشش کی ہے مولوی حضرات نے ان کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ اس بیان میں آل سعود کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام قیدیوں کو فوری طور پر رہا کردیں۔

ــ آل سعود کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے تیس ہزار ثبوتسعودی عرب کی انسانی حقوق سوسائٹی نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ 5 سال کے عرصے میں آل سعود نے 30 ہزار مرتبہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔انسان حقوق سوسائٹی نے کہا ہے کہ ناقابل انکار شواہد موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ آل سعود کے حکمران ان انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی ان واقعات میں براہ راست ملوث ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ملک کے عوام کس قسم کے عذاب سے گذررہے ہیں۔انسان حقوق سوسائٹی کے سربراہ "مفلح القحطانی" نے کہا کہ انہیں سعودی عرب میں انسانی حقوق کے خلاف ورزی کے حوالے سے ہزاروں دستاویزات اور شکایات موصول ہوئی ہین جن میں قیدیوں کے حوالے سے جرائم، روزمرہ زندگی میں شہریوں کے خلاف روا رکھے جانے والے جرائم، سیاسی، سرکاری اداروں میں روا رکھے جانے والے مظالم، سماجی اور مذہبی حوالوں سے خاندانوں کے اندر ہونے والے تشدد آمیز اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے دیگر واقعات سے تعلق رکھتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کے حوالے سے سرکاری اور عوامی سطح پر آگہی کا شدید فقدان ہے اور اگر حکومت شہریوں کے حقوق پامال کرتی ہے تو عوام کو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان کا کوئی بنیادی حق بھی ہے جو پامال ہورہا ہے چنانچہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کے حوالے سے باریک بینانہ مطالعات کی ضرورت ہے۔انھوں نے کہا: ہماری سوسائٹی کے پاس ہزاروں شکایات آتی ہیں جن کا تعلق سیاسی شعبے سے نہیں ہے کیونکہ اپنے سیاسی حقوق کی پامالی پر حکومت کے خوف سے خاموش ہوجاتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ اگر انھوں نے اس حوالے سے منہ کھولنے اور شکایت کرنے کی کوشش کی تو ان کا اور ان کے خاندان کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انھوں نے کہا: اس وقت سعودی عرب کی جیلوں میں 30 ہزار سے زائد سیاسی قیدی آل سعود کی جیلوں میں پابند سلاسل ہیں جن کا جرم یہ ہے کہ وہ ملک میں سیاسی اصلاحات، بیان کی آزادی اور اس طرح کے دوسرے حقوق کا مطالبہ کررہے تھے۔ انھوں نے کہا ان قیدیوں کا تعلق تمام اسلامی فرقوں سے ہے اور ان میں سنی باشندوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو آل سعود کے اذیتکدوں میں اپنے عمر کے لمحے کاٹ رہے ہیں۔

ــ سعودی ولیعہد کا حکم نامہ: احتجاجیوں پر رحم نہ کرنا!!سعودی کے نئے ولیعہد نائف بن عبدالعزیز نے فوجی کمانڈروں کے نام اپنے ایک خط میں میں ان کو فرمانِ بے رحمی جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر بالکل رحم نہ کریں۔ آل سعود کے اٹھتر سالہ ولیعہد نے یہ خط مارچ 2011 میں لکھا تھا جس وقت وہ سعودی عرب کے وزیرداخلہ تھے اور ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز ابھی زندہ تھے۔ انھوں نے یہ خط خاص طور پر ان کمانڈروں کے نام تحریر کیا تھا جو مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں کی سیکورٹی کی نگرانی کرتے ہیں۔ نائف نے اس خط میں فوجی کمانڈروں کو احتجاجیوں کی سرکوبی کا فری ہینڈ دیا گیا ہے اور ان لوگوں کو نشانہ بنانے کی کھلی چھٹی دی گئی ہے جو حکومت کی جانب سے شہریوں کے حقوق پر پابندیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں یا احتجاج کرسکتے ہیں۔اس خط میں نائف نے ایسے لوگوں پر گولی چلانے کی بھی اجازت عطا فرمائی ہے۔آل سعود کی قدامت پسند استبدادی بادشاہت دنیا میں بھی مخالفین کو کسی صورت میں برداشت نہ کرنے کے حوالے سے بدنام ہے اور اس بادشاہت نے 2011 کے ابتدائی مہینوں میں عرب دنیا میں شروع ہونے والی انقلابات کے ساتھ ہی شروع ہونے والی آل سعود مخالف احتجاجی تحریک کو کـچلنے کی مسلسل کوشش کی ہے جو نہ صرف ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکی ہے بلکہ توقع کی جاتی ہے کہ اس حکومت کو آنے والے دنوں میں زیادہ شدید اور وسیع احتجاجی تحریک کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ــ شیعیان حجاز کے خلاف آل سعود کے ذرائع ابلاغ کی جھوٹی تشہیری مہمروزنامہ المدینہ بھی گمراہ کن سعودی تشہیری مہم کی دوڑ میں شامل، منطقۃالشرقیہ میں وسیع احتجاجی مظاہروں اور سعودی مفکرین کے مذمتی بیان کے روزنامہ المدینہ بھی آل سعود سے وابستہ دوسرے ذرائع کی صف میں شامل ہوگیا۔مذکورہ بالا واقعات نے آل سعود اور اس کے وابستگان کو حیرت اور خوف کی ملی جلی کیفیت سے دوچار کردیا ہے اور آل سعود اور اس کے خفیہ اداروں کے پے رول پر چلنے والے اخبارات بھی اسی کیفیت میں مبتلا ہوکر گمراہ کن سعودی تشہیری مہم کا حصہ بن گئے تاہم المدینہ کو شاید بات دیر سے سمجھ میں آئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ سعودی روزنامے حتی کہ اشتہارات بھی ایجنسیوں کو دکھا کر شائع کرتے ہيں اور ملکی صورت حال پر ان کی نگاہ بہت سطحی ہے۔ بعض لوگوں نے سعودی صحافت کو مبارک دور میں مصری صحافت سے تشبیہ دی ہے مزید برآن سعودی صحافت پر ایک نظر ڈال کر غیرپیشہ ورانہ صحافت کے بے شمار نمونے دیکھے اور دکھائے جاسکتے ہیں۔ اور ان میں عوام کی رائے کی عکاسی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ المدینہ نے اپنے آخری شمارے میں منطقۃالشرقیہ میں 2011 کے شروع سے آغاز ہونے والی عوامی تحریک کو یکسر انداز کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ اس علاقے کے حالات معمول کے مطابق ہیں اور حال ہی میں ایک بلوائی گروپ کی فتنہ انگیزیوں کی ناکامی کے بعد اب وہاں امن و امان برقرارہے۔المدینہ کی عبارات دیکھ کر لگتا ہے کہ چیف ایڈیٹر نے یہ بھی لکھنا چاہا ہوگا کہ "وہاں کے عوام شاہ عبداللہ اور سعودی مفتیوں اور نئے ولیعہد کے لئے شب و روز دعائیں دے رہے ہیں!۔ان روزناموں کی یہ سطحی نگاہ اس بات کا پتہ بھی دے رہی ہے کہ شاید ان کو چلانے والی ایجنسیوں کی نگاہ اتنی ہی سطحی ہے اور خفیہ ایجنسیاں بھی ملک کے حقائق سے بالکل ناواقف ہیں۔المدینہ نے دعوی کیا ہے کہ اس کے نامہ نگار نے شیعہ علاقوں میں جاکر عوام سے رابطہ کیا ہے لیکن انھوں نے کسی قسم کی شکایت ظاہر نہیں کی ہے!!۔۔۔۔۔۔۔

/110