4 دسمبر 2011 - 20:30

شب عاشور امام حسین علیہ السلام کا خطبہ

ابنا: چوتھے امام حضرت علی بن الحسین علیہما السلام سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں : جب عمر سعد کی فوج پلٹ گئی تو حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب کو جمع کیا( یہ بالکل غروب کا وقت تھا) میں نے خود کو ان سے نزدیک کیا؛ کیونکہ میں مریض تھا۔ میں نے سنا کہ میرے بابا اپنے اصحاب سے فرمارہے ہیں:  'أثنی علیٰ اللّٰہ تبارک و تعالی أحسن الثنا ء و أحمد ہ علی السرّا ء و الضرّا ء ؛اللّٰھم ان أحمدک علی أن أکرمتنا با لنبوة و علمتنا القرآن و فقھتنا ف الدین و جعلت لنا أسما عاً وابصاراً و أفئدة ولم تجعلنا من المشرکین. اما بعد ؛ فان لا أعلم أصحاباً أولیٰ و لا خیراً من أصحابی ولا أہل بیت أبرّ وأوصل من أہل بیت فجزاکم اللّٰہ عن جمیعاً خیرا. ألا وانّ اظن یومنا من ھٰولاء الاعدا ء غداً ألا وان قد رأیت لکم فانطلقوا جمیعاً ف حِل ، لیس علیکم من ذمام ، ھٰذا لیل قد غشیکم فاتخذوہ جملا ! (١)ثم لیأ خذ کلُ رجل منکم بید رجل من أھل بیت؛تفرقوا ف سوادکم و مدائنکم حتی یفرّج اللّٰہ ، فان القوم انما یطلبون، ولو قد أصابون لَھَوا عن طلب غیر.'  میں اللہ تبارک و تعالی کی بہترین ستائش کرتا ہوں اور ہر خوشی و آسائش اور رنج و مصیبت میں .............. ١۔ ابو مخنف کہتے ہیں کہ مجھ سے حارث بن حصیرہ نے عبداللہ بن شریک عامری سے اور اس نے علی بن حسین علیہ السلام سے یہ روایت بیان کی ہے۔ (طبری ،ج٥،ص ٤١٨ ) ابو الفرج نے ص ٧٤ پر اور شیخ مفید نے ص ٢٣١ پر علی بن حسین کے بجائے امام سجاد علیہ السلام لکھا ہے جو ایک ہی شخصیت کے نام اور لقب ہیں ۔ اس کی حمد کرتا ہوں ۔خدایا! اس بات پرمیں تیری حمد کرتا ہوں کہ تو نے ہمیں نبوت کے ذریعہ کرامت عطاکی ، ہمیں قران کا علم عنایت فرمایا اور دین میں گہرائی و گیرائی عطافرمائی اور ہمیں حق کو سننے والے کان ، حق نگر آنکھیں او ر حق پذیر دل عطا فرمائے اور تونے ہمیں مشرکین میں سے قرار نہیں دیا ۔ اما بعد! حقیقت یہ ہے کہ میں اپنے اصحاب سے بہتر و برتر کسی کے اصحاب کاسراغ نہیں رکھتا، نہ ہی ہمارے گھرانے سے زیادہ نیکو کار اور مہر بان کسی گھرانے کا مجھے علم ہے ؛خدا وند متعال میری طرف سے تم سب کو اس کی بہترین جزاعطاکرے ۔  آگاہ ہوجاؤ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان دشمنوں کی شر انگیزیوں کی بنیاد پر کل ہماری زندگی کا آخری دن ہے۔ آگاہ ہوجاؤ! کہ میں نے اسی لئے تم لوگوں کے سلسلے میں یہ نظریہ قائم کیا ہے کہ تم سب کے سب ہماری بیعت سے آزاد ہو اورمیری طرف سے تم لوگوں پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ رات ہے جس نے تم سب کواپنے اندر ڈھانپ لیا ہے؛ تم لوگ اس سے فائدہ اٹھاکر اپنے لئے اسے حجاب و مرکب قرار دو اور تم میں سے ہر ایک ہمارے خاندان کی ایک ایک فرد کا ہاتھ پکڑ کر اپنے اپنے ملک اور شہر کی طرف نکل جائے یہاں تک کہ خدا گشائش کی راہ نکال دے ؛کیونکہ یہ قوم فقط میرے خون کی پیاسی ہے لہٰذا اگر وہ مجھے پالیتی ہے تو میرے علاوہ دوسروں سے غافل ہوجائے گی۔

 ہاشمی جوانوں کا موقف  امام حسین علیہ السلام کی تقریر ختم ہوچکی تو عباس بن علی علیھما السلام نے کلام کی ابتداء کی اور فرمایا :' لِمَ نفعل ذالک؟ ألنبقی بعدک ؟ لاأرانا اللّٰہ ذالک أبداً!' ہم ایسا کیوں کریں ؟ کیا فقط اس لئے کہ ہم آپ کے بعد زندہ و سلامت رہیں ؟ !خدا کبھی ہمیں ایسا دن نہ دکھائے ۔  اس کے بعد حضرت عباس کے بھائی ، امام حسین علیہ السلام کے فرزندان ، آپ کے بھائی امام حسن علیہ السلام کی اولاد ،عبداللہ بن جعفر کے فرزند ( محمد و عبداللہ ) سب کے سب نے اسی قسم کے کلمات سے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔  یہ سن کر امام حسین علیہ السلام فرزندان جناب عقیل کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا : اے فرزندان عقیل ! مسلم کا قتل تم لوگوں کے لئے کافی ہے، تم سب چلے جاؤ ،میں تم کو اجازت دیتا ہوں۔یہ سن کر ان سبھوں نے عرض کیا:  'فما یقول الناس ! یقولون انّا ترکنا شیخنا و سیدنا و بن عمومتنا خیر الاعمام ولم نرم معھم بسھم ، ولم نطعن معھم برمح ولم نضرب معھم بسیف ، ولا ندر ما صنعوا ! لا واللّٰہ لا نفعل ولکن تفدیک أنفسْنا و أموالنا وأھلونا ، ونقاتل معک حتی نرد موردک ! فقبح اللّٰہ العیش بعدک' (١) اگر ہم چلیں جائیں تو لوگ کیا کہیں گے ! یہی تو کہیں گے کہ ہم نے اپنے بزرگ اور سید و سردار اور اپنے چچا کے فرزندان کو (نرغہ اعداء میں تنہا )چھوڑ دیا جبکہ وہ ہمارے بہتر ین چچا تھے۔ہم نے ان کے ہمراہ دشمن کی طرف تیر نہیں چلا یا ، نیز وں سے دشمنوں کو زخمی نہیں کیا اور ان کے ہمراہ تلوار سے حملہ نہیں کیا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ لوگ ہمارے ساتھ کیا کریں گے۔نہیں خد اکی قسم ہم ایسا نہیں کر سکتے ؛ ہم اپنی جان ، مال اور اپنے گھر والوں کو آپ پر قربان کردیں گے؛ ہم آپ کے ساتھ ساتھ دشمن سے مقابلہ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ جہاں آپ وارد ہوں۔ وہیں ہم بھی وارد ہوں . اللہ اس زندگی کا برا کرے جو آپ کے بعد باقی رہے!

 اصحاب کا موقف  جب بنی ہاشم اظہارخیال کر چکے تو اصحاب کی نوبت آئی تو۔ ( حسینی سپاہ کے سب سے بوڑھے صحابی) مسلم بن عوسجہ( ٢) اٹھے اور عرض کی :' أنحن نخل و لمانعذر الی اللّٰہ فی أداء حقک ! أماواللّٰہ حتی أکسر فی صدورھم رمح ، وأضربھم بسیف ما ثبت قائمة فی ید ،ولا أفارقک ، ولو لم یکن مع سلاح أقاتلھم بہ لقذفتھم بالحجارة دونک حتی أموت معک' .............. ١۔مقاتل الطالبیین، ابو الفرج،ص٧٤ ،ارشاد،ص٢٣١، خواص۔ ص ٢٤٩

 ٢۔جو اشراف کوفہ جناب مسلم بن عقیل کے ساتھ تھے۔ ان کے ہمراہ آپ کے احوال گزر چکے ہیں ۔واقعہ کربلا میں یہ آپ کا پہلا تذکرہ ہے آپ کربلا کیسے پہنچے اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اگر ہم آپ کو تنہا چھوڑدیں ؟تو آپ کے حق کی ادئیگی میں اللہ کے سامنے ہمارے پاس کیا عذر ہوگا؟ خدا کی قسم! جب تک کہ میں اپنا نیزہ ان کے سینے میں نہ تو ڑلوں اور جب تک قبضۂ شمشیر میرے ہاتھ میں ہے میں ان کو نہ مار تا رہوں میں آپ سے جدا نہ ہوں گا اور اگر میرے پاس کوئی اسلحہ نہ ہوا جس سے میں ان لوگوں سے مقابلہ کر سکوں تو میں آپ کی حمایت میں ان پر پتھر مارتا رہوں گا یہاں تک مجھے آپ کے ہمراہ موت آجائے۔مسلم بن عوسجہ کے بعد سعید بن عبد اللہ حنفی اٹھے اور عرض کیا :  ' واللّٰہ لا نخّلیک حتی یعلم اللّٰہ أنا حفظنا غیبة رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم فیک . واللّٰہ لو علمت ان أقتل ثم أحیا ثم احرق حےّاثم أذّر ، یفعل ذالک ب سبعین مرّ ة ما فا رقتک حتی ألقی حِما م دونک فکیف لاأفعل ذالک وانما ھ قتلة واحد ة ثم ھ الکرامة التی لا انقضاء لھا ابداً'  خدا کی قسم! ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑ یں گے یہاں تک کہ خدا ہمیں یہ بتادے کہ ہم نے رسول خدا صلی اللہ وآلہ وسلم کے پس پشت آپ کی حفاظت ونگرانی کرلی، خدا کی قسم! اگر مجھے معلوم ہو کہ مجھے قتل کیا جائے گا اور پھر زندہ کیا جائے گا اور پھر زندہ کر نے کے بعد مجھے زندہ جلا دیا جائے اور میری راکھ کو ہوا ؤں میں اڑادیا جائے گااور یہ کام میرے ساتھ ستّر (٧٠) مرتبہ بھی کیا جائے تب بھی میں آپ سے جدا ئی اختیار نہیں کروں گا یہاں تک کہ میں آپ کے سامنے قربان ہو جاؤں۔ اور میں ایسا کیوںنہ کروں جب کہ ایک ہی بار قتل ہونا ہے اور اسکے بعد ایسی کرامت ہے جو کبھی بھی ختم ہونے والی نہیں ہے ۔  اسکے بعد زہیر بن قین بولے :' واللّٰہ لوددت ان قتلت ثم نشرت ثم قتلت حتی أقتل کذ األف قتلة، وان اللّٰہ ید فع بذالک القتل عن نفسک وعن أنفس ھو لا ء الفتےة من أہل بیتک ' خدا کی قسم! میرا دل تو یہی چاہتا ہے کہ میں قتل کیا جاؤں پھر مجھے زندہ کیا جائے پھر قتل کیا جائے یہاں تک کہ ایک ہزار مرتبہ ایسا کیا جائے اور اللہ میرے اس قتل کے ذریعہ آپ کے اور آپ کے گھر انے کے ان جوانوں سے بلا کو ٹال دے ۔ اسکے بعد اصحاب کی ایک جماعت گویا ہوئی : 'واللّٰہ لا نفارقک ، ولکن أنفسنا لک الفداء نقیک بنحور نا وجباہنا وأید ینا .فاذانحن قتلنا کنا وفیناوقضینا ماعلینا' خداکی قسم ہم آپ سے جدانہیں ہوسکتے ۔ ہماری جانیں آپ پر قربان ہیں۔ ہم اپنی گردنوں ، پیشانیوں اور ہاتھوں سے آپ پر قربان ہیں۔جب ہم قتل ہو جائیں گے تب ہم اس حق کوادااور اس عہد کو وفاکریں گے جوہماری گردن پر ہے ۔  اس کے بعد اصحاب کے گروہ گروہ نے اسی قسم کے فقروں سے اپنے خیالات کااظہار کیا۔(١)

 امام حسین علیہ السلا م اورشب عاشور حضرت علی بن حسین علیھما السلام سے روایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں : جس شام کی صبح کو میرے باباشھید کردئے گئے اسی شب میں بیٹھا تھا اور میری پھوپھی زینب میری تیمارداری کررہی تھیں۔ اسی اثنا میں میرے بابا اصحاب سے جدا ہوکر اپنے خیمے میں آئے۔ آپ کے پاس 'جون '(٢) ابوذر کے غلام بھی موجود تھے جو اپنی تلوار کو آمادہ کررہے تھے اور اس کی دھار کو ٹھیک کر رہے تھے۔اس وقت میرے بابا یہ اشعار پڑھ رہے تھے :  یا دھر اف ّ لک من خلیل کم لک بالِاشراق والاصیل من صاحب أو طالب قتیل وا لد ھر لا یقنع با لبدیل وانما الا مر الیٰ الجلیل وکل ّ ح سا لک سبیل .............. ١۔ابو مخنف نے بیان کیا ہے کہ مجھ سے عبداللہ بن عاصم فایشی نے ضحاک بن عبداللہ مشرقی ہمدانی کے حوالے سے اس روایت کو نقل کیاہے۔ (طبری، ج٥ ،ص ٤١٨؛ابوالفرج ،ص ٧٤ ، ط نجف ؛ تاریخ یعقوبی، ج ٢، ص ٢٣١ ، ارشاد، ص ٢٣١)  ٢۔ طبری نے حوَلکھا ہے۔ ارشاد، ص ٢٣٢ میں 'جوین ' اور مقاتل الطالبیین، ص ٧٥ ، مناقب بن شہر آشوب، ج٢، ص ٢١٨، تذکرة الخواص، ص ٢١٩ ، اور خوارزمی، ج١ ،ص ٢٣٧ پر 'جون ' مرقوم ہے ۔ تاریخ طبری میں آپ کا تذکرہ اس سے قبل اور اس کے بعد بالکل موجود نہیں ہے نہ ہی امام علیہ السلام کے ہمراہ آپ کی شہادت کا تذکرہ موجود ہے۔  اے دنیا! اُف اور وائے ہو تیری دوستی پر، کتنی صبح و شام تو نے اپنے دوستوں اور حق طلب انسانوں کو قتل کیا ہے، اور ان کے بغیر زندگی گزاری ہے ،ہاں روزگاربدیل ونظیر پر قناعت نہیںکرتا، حقیقت تو یہ ہے کہ تمام امور خدا ئے جلیل کے دست قدرت میںہیں اور ہر زندہ موجود اسی کی طرف گامزن ہے۔ بابانے ان اشعار کی دو یا تین مرتبہ تکرار فرمائی تو میں آپ کے اشعار کے پیغام اور آپ کے مقصد کو سمجھ گیا لہذا میری آنکھوں میںاشکوں کے سیلاب جوش مارنے لگے اور میرے آنسو بہنے لگے لیکن میں نے بڑے ضبط کے ساتھ اسے سنبھالامیں یہ سمجھ چکاتھا کہ بلا نازل ہوچکی ہے ۔  ہماری پھوپھی نے بھی وہی سنا جو میں نے سنا تھا لیکن چونکہ وہ خاتون تھیں اور خواتین کے دل نرم و نازک ہوا کرتے ہیں لہٰذا آپ خود پر قابو نہ پاسکیں اور اٹھ کھڑی ہوئیں اور سر برہنہ دوڑتی ہوئی اس حال میں بھائی کے خیمہ تک پہنچیں کہ آپ کا لباس زمین پر خط دے رہا تھا،وہاں پہنچ کر آپ نے فرمایا : 'واثکلاہ ! لیت الموت أعد من الحیاة ! الیوم ماتت فاطمة أمّ و علی أب ، وحسن أخ یا خلیفةالماض وثمال الباق'(١)آہ یہ جانسوز مصیبت ! اے کاش موت نے میری حیات کو عدم میں تبدیل کردیا ہوتا! آج ہی میری ماں فاطمہ ، میرے بابا علی اور میرے بھائی حسن دنیا سے گزر گئے۔ اے گذشتگان کے جانشین اور اے پسماندگان کی پناہ ، یہ میں کیا سن رہی ہوں ؟  یہ