8 نومبر 2011 - 20:30

جنوبي يمن ميں سيکورٹي فورس کے اہلکاروں اور مسلح افراد کے درميان لڑائي کي اطلاعات موصول ہوئي ہيں۔

ابنا: ايک يمني عہديدار نے صنعا ميں بتايا ہے کہ جنوبي صوبے ابين کے مرکزي شہر زنجبار ميں سيکورٹي فورس اور مسلح افراد کے درميان زبردست لڑائي ہو رہي ہے- کہا جارہا ہے کہ اس لڑائي ميں اب تک بيس افراد مارے جاچکے ہيں۔يمني عہديدار نے جرمن پريس کو بتايا ہے کہ يہ لڑائي ہفتے کے روز سے جاري ہے اور سرکاري فوج کے لڑاکا طياروں نے جعار نامي علاقے ميں مخالفين کے ٹھکانوں پر بمباري بھي کي ہے جس ميں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہيں۔يمن ميں عبداللہ صالح کي ‏آمريت کے خلاف تحريک شروع ہوئے نو ماہ کا عرصہ ہوگيا ہے اور جنوبي صوبوں ميں سرکاري فوج اور مسلح افراد کے درميان لڑائي ميں شدت آتي جارہي ہے جسکے بارے ميں سياسي تجزيہ نگاروں کا کہنا ہے کہ يہ مسلح گروپ خود حکومت کے پيدا کردہ ہيں۔حکومت يمن يہ ظاہر کرنے کي کوشش کر تي چلي آرہي ہے کہ عبداللہ حکومت کے خاتمے کے بعد اس ملک ميں مسلح افراد انارکي پھيلا کر ملک کو خانہ جنگي کي سمت لے جائيں گے۔دوسري جانب يمن کے سياسي کارکنوں کا کہنا ہے کہ عبداللہ صالح کي حکومت اور اسکے اصل حامي کي حثيت سے سعودي عرب ، جنوبي يمن کے مسلح گروہوں کو منظم اور انہيں ہتھياروں سے ليس کررہا ہے۔

.......

/169