ابنا: عراق کے وزير دفاع سعدون دليمي نے اس بات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ بعض سياسي جماعتيں، ملک ميں امن و امان کے قيام ميں سيکورٹي فورسز کو نا اہل ظاہر کرکے نوري مالکي کي حکومت کو کمزور کرنے کي کوشش کر رہي ہيں، کہا کہ وزير اعظم مالکي سميت عراقي حکام ملک ميں قيام امن کے سلسلے ميں سيکورٹي فورسز کي صلاحيتوں پر پورا يقين رکھتے ہيں اور غير ملکي افواج کي موجودگي کو ملک کے عدم استحکام کا اصل سبب مانتے ہيں-
انہوں نے اس بات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اس وقت عراقي افواج نے امريکا کي اکثر چھاؤنيوں کو اپنے قبضے ميں لے ليا ہے، کہا کہ پيشرفتہ وسائل کے ساتھ عراقي افواج ، ملک ميں امن و امان قائم رکھنے کي بھرپور صلاحيت رکھتي ہيں-
ادھر عراق ميں امريکي سفارتخانے کے ترجمان نے حال ہي ميں اعلان کيا ہے کہ اس ملک ميں ساڑھے چار سو زائد فوجي چھاؤنيوں کو عراقي فوج کے حوالے کر ديا گيا ہے اور امريکي فوجيوں نے ان چھاؤنيوں کو خالي کرکے، شہروں کا انتظام چلانے کے امور بھي عراقي فوجيوں کے حوالے کر ديئے ہيں-
علاقے کے خبري ذرائع کا کہنا ہے کہ عراق سے قابض امريکي فوج کے انخلا کے بعد اس وقت واشنگٹن کے حکام کو امريکي رائے عامہ کے سامنے جوابدہي کے بھي بڑے چيلنج کا سامنا ہے کيونکہ عراق پر قبضے کے دوران ساڑھے چار ہزار سے زائد امريکي فوجي، اس ملک کي حکومت کي تسلط پسندانہ پاليسيوں کي بھينٹ چڑھ چکے ہيں چنانچہ عراق جنگ کے دوران امريکا کے فوجي بجٹ کا بڑا حصہ خرچ ہوا ہے جس نے امريکي معيشت کو بحران ميں مبتلا کر ديا ہے اور دسيوں لاکھ امريکي باشندے، حکومت کي جنگ پسندانہ پاليسيوں کے سبب غربت اور بے روزگاري کا شکار ہيں-
لبنان کے المنار ٹي وي چينل نے بھي کہا ہے کہ عراق ميں امريکا کي فوجي اور سياسي شکست کے سبب امريکي وزارت دفاع اور خفيہ ايجنسي سي آئي اے، عراق ميں اپني شکست کي تلافي کے ليے سازشوں پر عمل کر رہي ہے جن ميں سے ايک عراق کے سياسي پليٹ فارم پر موجودگي کے ليے کالعدم بعث پارٹي کي حمايت ہے-
يہ ايسے عالم ميں ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں کے دوران عراقي سيکورٹي فورسز کي ہوشياري کے سبب بعث پارٹي کے سيکڑوں افراد گرفتار ہو چکے ہيں اور انہوں نے عراقي عوام اور حکومت کے خلاف اپني تخريبي کارروائيوں کا اعتراف کيا ہے-
گرفتار شدہ افراد نے اسي طرح يہ بات بھي تسليم کي ہے کہ عراق ميں امن و امان کو تباہ کرکے نوري مالکي حکومت کو کمزور بنانے کے ليے امريکا اور سعودي عرب کي جانب سے ان کي مدد کي جا رہي تھي-
عراقي عوام نے بارہا مظاہرے کرکے اور جلوس نکال کر، پورے ملک ميں امن و امان کے قيام ميں عراقي سيکورٹي فورسز کي صلاحيتوں پر تاکيد کرتے ہوئے اپنے ملک سے قابض افواج کے فوري انخلا کا مطالبہ کيا ہے-
عراقي سيکورٹي فورسز کے ہاتھوں بڑي تعداد ميں بعث پارٹي کے افراد کي گرفتاري اور نوري مالکي حکومت کے خلاف ہونے والي سازشوں کي ناکامي نے اس حقيقت کو عياں کر ديا ہے کہ عراق کي سيکورٹي فورسز بيروني طاقتوں کي مدد کے بغير اپنے ملک ميں امن و امان قائم کر سکتي ہيں ـــ
........
/169