ابنا: يوگوسلاويہ کي عالمي عدالت کے چيف جسٹس کے دفتر سے وابستہ رہ چکے وکيل مروان دلال نے رفيق حريري قتل کيس کي خصوصي عدالت کے سامنے ايسے ثبوت پيش کئے ہيں جن سے رفيق حريري کے قتل ميں موساد اور اس
تنظيم کے اس وقت کے سربراہ ميئر داگان کا ملوث ہونا ثابت ہوتا ہے۔
رفيق حريري کو سن دو ہزار پانچ ميں بيروت ميں ايک بم دھماکہ کرکے قتل کر ديا گيا تھا۔ اس واقعے ميں بيس ديگر افراد بھي مارے گئے تھے۔
اس سے قبل بھي بعض ذرائع ابلاغ نے رفيق حريري کے قتل ميں صيہوني حکومت کے ملوث ہونے کي بات کہي تھي۔
............
/169
تنظيم کے اس وقت کے سربراہ ميئر داگان کا ملوث ہونا ثابت ہوتا ہے۔
رفيق حريري کو سن دو ہزار پانچ ميں بيروت ميں ايک بم دھماکہ کرکے قتل کر ديا گيا تھا۔ اس واقعے ميں بيس ديگر افراد بھي مارے گئے تھے۔
اس سے قبل بھي بعض ذرائع ابلاغ نے رفيق حريري کے قتل ميں صيہوني حکومت کے ملوث ہونے کي بات کہي تھي۔
............
/169