25 اکتوبر 2011 - 20:30

بحرين ميں ايک بار پھر ملک گير سطح پر حکومت مخالف مظاہرے ہوئے ہيں.

ابنا: موصولہ اطلاعات کے مطابق بحرين ميں امريکا کي حمايت يافتہ آل خليفہ حکومت کے خلاف عوامي مظاہروں کا سلسلہ بدھ کو بھي جاري رہا اور سيکورٹي اہلکاروں نے مظاہرين کے خلاف وحشيانہ تشدد کيا-

يہ مظاہرے دائر، دائح، بربر، محضہ، معامر اور سترہ جيسے علاقوں ميں ہوئے

مظاہرين آل خليفہ حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت کي برخواستگي سے متعلق ان کے مطالبے پورے نہيں ہو جاتے، ان کے مظاہرے جاري رہيں گے-

دريں اثنا ديراز کے علاقے ميں مظاہرين اور سيکورٹي فورس کے درميان سخت جھڑپوں کي خبريں موصول ہوئي ہيں-واضح رہے کہ بحرين کے عوام فروري کے اواسط سے حکومت کے خلاف پرامن مظاہرے کر رہے ہيں اور ان کا مطالبہ ہے کہ آل خليفہ کي آمر حکومت اقتدار سے عليحدہ ہو جائے- مارچ ميں سعودي عرب اور متحدہ عرب امارات کے فوجي، بحريني مظاہرين کي سرکوبي ميں منامہ حکام کي مدد کے ليے بحرين پہنچ گئے تھے اور انہوں نے مظاہرين کي وحشيانہ سرکوبي کي ہے-حکومت مخالف مظاہروں پربحريني اور غير ملکي فوجيوں کے حملوں ميں سو سے زائد افراد شہيد اور ايک ہزار سے زائد زخمي ہوئے ہيں جبکہ بڑي تعداد ميں لوگوں کو گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا ہے .

.....

/169