بسم تعالیٰمسلکی تشدد اور امت مسلمہ کی ملی ذمہ داری
تحریر:۔فدا حسین بالہامہ سرینگر کشمیر
خود کش دھماکے اور اس کے نتیجے میں ہونے والا اجتماعی قتل عام دو اسلامی ممالک کا معمول بنتا جارہا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ مرنے والا اور مارنے والا دونوں ایک ہی خدا پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک ہی رسول کے امتی ہونے کے دعویٰ دار ہیں اور ایک ہی قبلہ کی جانب رُخ کرکے خدا کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ ایک ہی کتاب کے بارے یہ یکسان عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہی دستورِ زندگی کا واحد الہٰی ماخذ و منبع ہے۔گاہے بگاہے قاتل و مقتول ایک ہی صف میں شانہ بہ شانہ قبلہ رو ہو کر کچھ اس انداز سے بارگاہِ خداوندی میں کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ان کی آپسی دشمنی کا کسی کو گمان بھی نہیں ہو سکتا ہے۔ لیکن چند ہی منٹوں میں یہ بھرم انسانی اعضاء کے ساتھ ہوا میں بکھر کر تحلیل ہو جاتا ہے، جب ایک نمازی خود کو بارود سے اڑا کر اپنے ساتھ بہت سارے نمازیوں کو بھی لے اڑاتا ہے۔ یہ المیہ نہیں تو اور کیا ہے کہ جو مساجد امن و سکون کی علامت ہوا کرتی ہیں۔ ان میں بھی بارود کا خوف منڈلا رہا ہے۔جہاں عبادت گاہیں بھی غارت گروں کے زد پر ہوں وہاں پھر کون سی جگہ محفوظ ہیں۔ جہاں داتا گنج بخش جیسے عظیم بزرگ کی درگاہ کا غسل مسلمانوں کے خون سے کیا جائے وہاں کے بازار اور عوامی مقامات پر موت کا سایہ ہر وقت منڈلاتے رہے تو کوئی حیرانگی کی بات نہیں ہے۔ سفاکی کا عالم یہ ہے کہ قتل کرنے کے بعد بھی قاتلوں کا جی نہیں بھرتا اور وہ جنازے میں بھی اجتماعی ہلاکت کی غرض سے شامل ہو جاتے ہیں اور اپنے ساتھ مزید چالیس پچاس آدمیوں کے جنازوں کی سبیل نکال لیتے ہیں۔ یہی صورتِ حال عراق میں بھی ہے۔ وہاں بھی اسی طرح کے دھماکوں کا سلسلہ ہے جو تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ آئے دن کہیں نہ کہیں اس قسم کا کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آہی جاتاہے۔ ایک طرف استعماری حملہ آوروں نے عراق کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا۔ اور دوسری طرف دہشت گردوں نے سفاکانہ کارروائیوں سے رہی سہی کسر بھی نکال لی۔ پرہجوم بازار، عوامی مقامات، زیارت گاہیں، حتیٰ کہ کاظمین، نجف، اور کربلا جیسے مقدس ترین مقامات پر بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوئے۔گزشتہ ماہ عراق کے ایک صوبے الانبار میں بائیس(۲۲) زائرین کو بے دردی کے ساتھ مارا گیا اور اس واقعے کے چند روز بعد ہی کوئٹہ پاکستان میں انتیس(29) زائرین کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ بی،بی، سی اردو سروس سے وابستہ صحافی محمد حنیف کے مطابق ہلاکت شدگان کی ابھی تدفین نہیں ہو پائی تھی کہ لشکرِ جھنگوی سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد علی شیر حیدری نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی۔ دوسری جانب عراق کے”رتبہ“علاقے میں وہابی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے چند شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے القاعدہ سے وابستگی کے ساتھ ساتھ مذکورہ واقعے کی ذمہ داری قبول کی۔واضع رہے دونوں شدت پسند گروہ مذہبی، مسلکی، نظریاتی اور حکمت عملی کے لحاظ سے ایک دوسرے کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان اور عراق میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں یہ مماثلت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ہونہ ہو دونوں ممالک میں ان کارروائیوں کے پیچھے ایک ہی ہاتھ کارفرما ہے۔ یہ مماثلت نہ صرف حکمت عملی کے اعتبار سے بلکہ نظریاتی سطح پر بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ کیونکہ حکمت عملی تو بہر حال فکری اور نظریاتی بنیادوں پر ہی استوار ہوتی ہے۔ نفرت اور بغض و عناد کا یہ بدترین مظاہرہ اصل میں تکفیری مفتیوں کی ایک ایسی دین ہے۔ جو عالمِ اسلام کو بالخصوص اور دیگر عالمی اقوام کو بالعموم بھگتنا پڑرہی ہے۔ عدم تحمل پر مبنی اور مذہبی رواداری کے برخلاف یہ روش چند صدیاں قبل برطانوی سامراج کی ایک گہری سازش کے ذریعے عالم اسلام میں در آئی ہے تاکہ دشمنانِ اسلام علی الخصوص عالمی سامراج مسلکی نظریات پر مرنے مارنے والے چھوٹے بڑے ملاؤوں کی لگائی گئی آگ پر ہی وقتاً فوقتاً اپنے مفادات کے پکوان پکاتے رہیں۔ ارتداد اور تکفیری فتووں کے علاوہ منافرت پر مبنی تقاریر اور لٹریچر جلتی پر تیل کا کام کررہا ہے۔ ان تقاریر، لٹریچراور دیگر وسائل کے ذریعے یہی باور کرایا جاتا ہے کہ مخالف مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد دائرہ انسانیت سے خارج ہیں۔ اور ان کا خون بہانا حتیٰ کہ ان کی عزت و عفت پر ہاتھ ڈالنا مباح ہے۔ دہشت گردانہ کارروائیوں میں براہِ راست ملوث اشخاص تو مجرم ہے ہی، وہ فتوی باز اور منافرت و حسد کے سوداگر بھی اس جرم سے بر ی الذمہ نہیں ہوسکتے ہیں بلکہ یہی تو اس گیم پلان کے بنیادی ماسٹر مائنڈ ہیں۔ اس شجر ملعونہ کی جڑیں۔ اس فتنے کے اصل محرک ہیں۔ ان میں سے کوئی ڈالر و دینار کی خاطر فتوے بیچ رہا ہے تو کوئی محض اپنے مخصوص مسلکی نظریات کو دوسرں پر تھونپنے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیارہے۔ یہ فتویٰ ساز مفتی باضابطہ طور چند ایک ممالک کے وظیفہ خوار ہے اور ایک منظم پلان کے تحت اپنے آقاووں کے اشاروں پر کام کررہے ہیں۔ ان کے آقا بھی صہیونیوں اور سامراجیوں کے ادنیٰ غلام ہیں۔ جو سامراجی مشن کو اسلامی رنگ دے کر آگے لے جارہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کے ازلی دشمن کے شعوری یا غیر شعوری طور ایجنٹ بنے ہوئے ہیں تو پھر ان کو ایک عام مسلمان نفرت کی نگاہ سے کیوں نہیں دیکھتا؟ مسلمانوں کی اکثریت اسرائیلی صہیونیت اور امریکی سامراجیت کے تئیں زبردست مخالفانہ جذبات رکھتی ہے۔ اس کے نزدیک یہ دونوں ابلیسیت کی حقیقی شکلیں ہیں۔ لہٰذا امریکہ و اسرائیل مخالف جذبات ان کی ملی نفسیات میں شامل ہوگئے ہیں۔ کوئی امریکہ مخالف نعرہ اس نفسیات کو ضرور بہ ضرور مرتعش کردیتا ہے۔ اور ہرا یک مسلمان کی حتیٰ الوسع کوشش رہتی ہے کہ ان نعروں کاحتیٰ ا لمقدورجواب دے۔ یہی وجہ ہے اکثر مقرر اور بیشتر مبلغ حضرات اس نفسیات کے پیش نظر زبانی ہی سہی امریکہ و اسرائیل کی خبر ضرور لیتے ہیں۔ انہی طاغوت مخالف جذبات کو ملحوظِ رکھ کر یہ طاغوتی غلام (ملا و مفتی) اپنے جو ش خطابت کو دو آتشہ کرنے کیلئے یہ ظاہر کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ وہ طاغوت اور طاغوت کے حامیوں کی نابودی کے خواہاں ہے۔ حالانکہ ان کی کرتوت ان کے زبان و بیان کے سو فیصدی برعکس ہیں۔ یہ صہیونیت کو زبانی جمع خرچ کے ذریعے خبر لیتے ہیں مگر دوسری جانب ان کے ہاتھ یہودیوں کے ہی ایجنڈے کو ہی فروغ دے رہے ہیں۔ امریکہ و اسرائیل کو بھی اس بات میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ گاہے بہ گاہے عام اور سادہ لوح مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کیلئے انہیں اپنے آقاوں کے خلاف بھی زبان درازی کرنا پڑے ۔یہ شعلہ بیان مقررین زبان سے لاکھ چاہیں اپنے آپ کو عالمی استکبار کے دشمن شمارکریں لیکن ان کے ہاتھ بہر حال اسلام کی بیخ کنی کرنے اور امت واحدہ کو پارہ پارہ کرنے میں مصروف ہیں۔ بحیثیت مجموعی امتِ مسلمہ ان کے کردار و گفتار میں موازنہ کرنے اور ان کے اصل چہرے کو بے نقاب کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتی ہے۔ بدقسمتی سے افرادِ ملت ہر اس شخص کو قابلِ اعتبار سمجھتے ہیں جس کے حلق سے امریکہ مردہ باد اسرائیل مردہ باد کا نعرہ نکلے۔ نتیجتاً جذباتیت سے مغلوب ملی مزاج امتِ مسلمہ میں پروان چڑھ رہی ہے۔ جو معروضیت، معقولیت اور واقعیت جیسے عناصر سے کوئی بھی علاقہ نہیں رکھتی ہے۔ جس کا فائدہ یہی آستین کے سانپ اٹھارہے ہیں۔ شیطان بزرگ امریکہ بھی مسلمانوں کے اس اجتماعی مزاج سے بخوبی واقف ہے اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ان کا جذباتی استحصال کرکے اپنے مفادات کی تکمیل کرتا آیا ہے۔ بعض اوقات واشنگٹن کسی غیر مؤثر گروہ، جہاں بینی [Worldview] سے معذور تنظیم اور متعصب مکتب فکر کو اپنے آپ ہی اپنے دشمن کے طور منتخب کرلیتا ہے تاکہ مسلمانوں کی سیاسی، اخلاقی اور جذباتی حمایت امریکہ کے حقیقی دشمن کے بجائے فرضی دشمن کے کھاتے میں چلی جائے اور پھر ان فرضی دشمنوں کا ریموٹ کنٹرول اس کے اپنے ہی ہاتھوں میں ہے جب چاہیں جہاں چاہیں ان کی خدمات استعمال میں لاسکتے ہیں۔ جس کی زندہ مثال عراق اور پاکستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی پر مبنی موجودہ صورت حال ہے۔اسرائیل، امریکہ اور ان کے حواریوں نے مل کر دنیائے اسلام کو مندمل نہ ہونے والے جو گہرے زخم دیئے ہیں اس کے قدرتی رد عمل کے طور امریکہ مخالف رجحان قابل فہم ہے ۔لیکن کوئی بھی ایرا غیرا حتیٰ کہ امریکی ایجنٹ اس ر جحان کا ناجائز فائدہ اٹھائے اس سے تکلیف دہ بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ ایک حق پرست کو عصری آگہی کا ملکہ حاصل ہو، تاکہ کسی بھی صورت حق کی نقاب اوڑھے باطل کی سحر گری سے مسحور نہ ہو جائے۔
اﷲ سے کرے دور، تو تعلیم بھی فتنہاملاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہشمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ
(علامہ اقبال)
عراق اور پاکستان میں مسلکی بنیادوں پر ہورہی ظلم و زیادتی کو خالصتاً انسانی المیہ کے عنوان سے دیکھا جائے تو اقوام عالم کا کردار بھی ایک گونگے بہرے انسان جیسا دکھائی دیتا ہے جو اپنی آنکھوں سے انسانیت کے ساتھ ہورہی اس ناانصافی کو دیکھ تو سکتا ہے لیکن اس کی مذمت میں ایک بھی لفظ اپنی زبان پر لانے سے قاصر ہے۔ جہاں ایک ملک میں آئے روز ستر اسی افراد خودکش بم دھماکوں میں مارے جائیں کیا وہاں اقوام متحدہ کو خاموشی زیب دیتی ہے؟ حقوقِ انسانی کی دعوے دار تنظیموں نے یہ تک گوارہ نہیں کیا کہ مقتولین کا (برائے ریکارڈ ہی سہی) شمار رکھیں۔ عکس العمل اس کے سوڈان میں عیسائیوں کی طرف کوئی ترچھی آنکھ سے بھی دیکھے تو یہی تنظیمیں اپنے تمام ذرایع کے ساتھ حرکت میں آجاتی ہیں۔ جہاں کہیں عیسائیوں کے جان و مال کو مذہبی بنیادوں پر خطرہ لاحق ہوا۔ وہاں پر فساد کو فرو کرنے کیلئے یورپی مشینری کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اقوام متحدہ بھی اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ میدان میں کود پڑتی ہے۔ سالہا سال سے مذکورہ دو ممالک میں تشدد کا دائرہ اثر اور اس کے نتیجے میں ہورہے انسانی جانوں کا بے حد و حساب زیاں کیا اس بات کا تقاضا نہیں کرتا ہے کہ یو،این،او کی جنرل اسمبلی میں اس کا ذیلی اور ضمنی عنوان کے تحت ہی تذکرہ ہوجاتا؟ ہلاکتوں کے اس نہ تھمنے والے سلسلے کی جانب عالمی برادری نظرِ التفات سے کب دیکھے گی؟ کب بغداد، بصرہ، کراچی اور کوئٹہ میں مارے جانے والوں کو بھی واشنگٹن میں گیارہ ستمبر کے مہلوکین کی طرح انسان سمجھا جائے گا؟ گیارہ ستمبر کے اصل سیاسی محرکات و عوامل سے قطع نظر اگر صرف امریکیوں کے سالانہ تعزیتی تقاریب پر ہی غور کیا جائے تو انسانی جان کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے۔یہ ایک الگ سوال ہے اور اس کے ساتھ اس وقت کوئی سروکار نہیں ہے کہ اس حادثے کے پیچے کون تھا اور اس کے کیا مقاصد تھے؟جس عنوان سے امریکی عوام نے اس حادثے کو سنجیدگی سے لیا اس کو دیکھ کر گیارہ ستمبر کے ماسٹر مائنڈ کو بھی اپنے اس فعل قبیح پر ندامت ہونی چاہیے۔ لیکن اسلامی ممالک کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ یہاں پر قتل عام اور ٹارگٹ کلنگ (Target Killing) تو ایک مصیبت ہے ہی مگر مصیبت بال