10 اکتوبر 2011 - 20:30

ایک سعودی سیاستدان نے الزام لگایا ہے کہ آل سعود کے حکمران العوامیہ کے عوام کے دشمن ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ  کی رپورٹ کے مطابق سعودی سیاستدان نے کہا: فوجی حل اور طاقت کا استعمال آل سعود کے فائدے میں نہیں ہے اور وہ عوام کی آراء اور افکار کو نہیں کچل سکتے۔خاتون سعودی سیاستدان نے محترمہ مریم یوسف نے ہفتے کے روز العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ العوامیہ کے عوام کے خلاف حالیہ ایام میں ایسے پرتشدد اقدامات عمل میں لائے گئے ہیں جو انسانی حقوق کی اعلانیہ پامالی کے زمرے میں آتے ہیں۔ انھوں نے کہا: ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل سعود خاندان کی العوامیہ کے شیعہ عوام سے تاریخی دشمنی ہے۔ انھوں نے کہا: 4 اکتوبر کو منطقۃ الشرقیہ کے شہر القطیف اور العوامیہ میں پر امن مظاہرین کے خلاف آل سعود کی فورسز کی پرتشدد کاروائیوں میں ایک خاتون سمیت 24 افراد زخمی ہوئے۔انھوں نے القطیف میں 100 افراد کے بیان اور ان کی جانب سے عوام کی سرکوبی کے سلسلے میں آل سعود حکومت کے جابرانہ اقدامات کی حمایت پر تنقید کی اور خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات کے نتائج بہت خطرناک ہونگے۔مریم یوسف نے کہا: جبر و تشدد سے بھرپور سرکاری اقدامات اور خوف و ہراس پھیلا کر عوامی احتجاج کو ختم کرنے کی کوششوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔انھوں نے کہا: آل سعود حکومت نے العوامیہ کے واقعات سے قبل بے شمار فوجی دستے اور سامان حرب کو العوامیہ میں تعینات کررکھا تھا اور ہرجگہ ناکے لگائے تھے اور عوام سے پوچھ گچھ کے لئے تفتیشی مراکز قائم کئے تھے لیکن عوام نے ارادہ کیا تو وہ مظاہرہ کرنے اور ریلی نکالنے میں کامیاب ہوئے اور پر تشدد سرکاری اقدامات کے باوجود اپنے احتجاجی اقدامات جاری رکھے۔ اس خاتون سیاستدان نے آل سعود حکومت کو خبردار کیا کہ ہتھیار صرف آل سعود کے حکمرانوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ جزیرة العرب کے تمام شہروں اور دیہاتوں میں بڑی مقدار میں ہتھیار پائے جاتے ہيں اور عوام تنگ آئیں گے تو ان ہتھیاروں سے استفادہ کرسکتے ہیں۔انھوں نے کہا: بات چیت اور کلام کا ہتھیار زیادہ مؤثر اور زیادہ قوی ہے چنانچہ اگر حکومت ہتھیاروں کے زور سے عوامی احتجاج کو کچل بھی دے، عوام کے افکار کو نہیں کچل سکے گی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110