25 ستمبر 2011 - 20:30

اتوار کو عراق کے مقدس شہر کربلائے معلي ميں ہونے والے دہشتگردانہ بم دھماکوں کي عراق کے اعلي حکام اور سياسي جماعتوں نے مذمت کي ہے اور اس عزم کا اعلان کيا ہے ملک ميں شيعہ و سني اختلاف پيدا کرنے والوں کي کوششوں کا کامياب نہيں ہونے ديا جائے گا.

ابنا: واضح رہے کہ اتوار کے دن صوبہ کربلا کے مختلف علاقوں ميں ہونے والے بم دھماکوں کے بعد اس صوبے کي پوليس نے اس شہر کي تمام سرکاري عمارتوں کو خالي کروانے کے بعد ان اداروں کے ملازمين کو ان کے گھروں ميں بھيج ديا تھا- بغداد سے ہمارے نمائندے کي رپورٹ کے مطابق صوبہ کربلا ميں اتوار کے دن ہونے والے بم دھماکوں کے بعد کربلا کي پوليس نے عوام اور حکام کي حمايت کے مقصد سے گورنر ہاؤس ، ميونسپل کونسل ، پاسپورٹ آفس اور عدليہ سے وابستہ تمام عمارتوں کو خالي کروانے کے بعد يہاں کام کرنے والے ملازمين کو ان کے گھروں ميں بھيج ديا پوليس نے بم دھماکوں کے مقامات پر کرفيو لگاديا ہے اور صوبہ کربلا ميں ہنگامي حالت کانفاذ کرديا ہے-

صدر گروہ نے ان بم دھماکوں کے خلاف اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ان ميں امريکي اور وہابي عناصر کو ملوث بتايا ہے جو عراق ميں قومي اور مذہبي اختلافات پيدا کرنے کے لئے کوشاں ہيں-

صدر گروہ کے ترجمان شيخ صالح العبيدي نے کربلا کے بم دھماکوں کا مقصد عراق کے اہل سنت اور اہل تشيع کے درميان اختلافات کو ہوا دينا اور سيکورٹي معاہدے ميں توسيع کا راستہ ہموار کرنا اور اس کے نتيجے ميں اس ملک ميں امريکي فوجيوں کي موجودگي برقرار رکھنا قرار ديا ہے- حاليہ مہينوں ميں عراق کے مختلف شہروں ميں دہشتگردانہ واقعات اور بم دھماکوں ميں شدت آئي ہے اور سياسي رہنما اس کي وجہ عراق ميں امريکي فوجيوں کي موجود کا وقت نزديک آنے اور اس ملک ميں بدامني پيدا کرنے کي تکفيري گروہ کي کوشش کو قرار دے رہے ہيں -
.....

/169