22 ستمبر 2011 - 20:30

جنرل اشفاق پرویز کیانی نے امریکی فوج کے کمانڈر کے بیان کے جواب میں کہا کہ مائیک مولن اچھی طرح جانتے ہیں کہ کن کن ممالک کے حقانی گروپ کے ساتھ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف پاکستان کو موردِ الزام ٹہرانا غیر منصفانہ اور غیر سود مند ہے۔

ابنا: اس سے قبل پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر نےمتنبہ کیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے پاکستان پر شدت پسندوں کی حمایت کے الزامات لگانے کا سلسلہ جاری رہا تو وہ اپنے اس اتحادی سے ہاتھ دھو سکتا ہے۔اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود پاکستانی وزیرِ خارجہ نے ایک پاکستانی نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور اس کے عوام کو تنہا کرنے کی کوشش امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے۔ان کا یہ بیان حالیہ چند دنوں میں اعلٰی امریکی حکام کی جانب سے پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کی حمایت کے الزامات کے بعد سامنے آنے آیا ہے۔حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ ’آپ ایک اتحادی کو کھو دیں گے‘۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ آپریشنل سطح پر(امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں) شدید مشکلات موجود ہیں‘۔امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر ایڈمرل مائیک مولن نے جمعرات کو سینیٹ کے ارکان کو ایک بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کابل پر حالیہ حملوں میں ملوث شدت پسند گروہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا آلہ کار ہے اور کابل میں نیٹو اور امریکی فوج کے اڈوں پر حملے کا منصوبہ حقانی گروپ نے آئی ایس آئی کی معاونت سے تیار کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110