ابنا: موصولہ رپورٹ کے مطابق انقلابیوں کی جانب سے قذافی کے حامی مسلح افراد کو ہتھیار ڈالنےکے حوالے سے دی گئي مدت کےختم ہونے کے بعد انقلابی بنی ولید شہر سے تیس کلومیٹر کے فاصلے تعینات ہوگۓ تھے اور انہوں نے کل کی جھڑپوں کے بعد جن ٹھکانوں پر قبضہ کیا تھا ان کو مستحکم کرنے میں مصروف ہیں۔ لیبیا کے انقلابیوں کے مذاکرات کار عبداللہ کنشیل نے کہا ہے کہ ہمیں ایسے توپخانوں کا سامنا ہے جو گھروں کے اندر ہیں اور ہمیں معلوم نہیں ہے کہ ان گھروں میں عام افراد بھی موجود ہیں یا نہیں اور ہم اس مسئلے سے بطریق احسن نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کنشیل نے مزید کہا کہ ہم قومی عبوری کونسل کے فیصلے کے بغیر ہمہ گیر حملہ نہیں کریں گے۔ لیکن موجودہ حالات میں اس کے سوا کوئي چارہ بھی نہیں ہے کیونکہ ہم بنی ولید کے باشندوں کی حمایت اور ان کی مشکلات دور کرنے کے لۓ کوشاں ہیں۔............
/169