ابنا: العالم کي رپورٹ کے مطابق اسرائيل کے ادارہ شماريات نے خبردي ہے کہ سن دوہزار نو ميں سولہ ہزار يہودي بہتر زندگي کي اميد ميں اسرائيل سے دوسرے ملکوں ميں نقل مکاني کرگئے- دريں اثنا تل ابيب يونيورسٹي کے ايک پروفيسر ڈان بن ڈيوڈ نے کہا ہے کہ اسرائيل کے يہوديوں کو فلسطيني سرزمين ميں سخت حالات ميں زندگي بسرکرنا پڑ رہا ہے کيونکہ وہ سمجھ چکے ہيں کہ جلد يا بدير انہيں اپني پہلي والي جگہ پلٹ کر جانا ہي ہوگا- ايک اور سياسي تجزيہ نگار اور ويلو سون نے بھي فلسطين کے مقبوضہ علاقوں سے يہوديوں کي الٹي مہاجرت کے بارے ميں کہا کہ فلسطيني علاقوں ميں بسنےوالے يہودي اپنے پہلے وطن کي طرف پلٹنے کي تگ و دو کرنے لگے ہيں - انہوں نے کہا کہ گذشتہ برسوں کے دوران دسيوں ہزار اسرائيليوں نے يورپي ملکوں کي شہريت اختيار کرنے کي درخواست دي ہے اور انہيں عملي طور پر بعض يورپي ملکوں منجملہ پولينڈ اور جرمني کي شہريت مل بھي گئي -
سياسي تجزيہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صہيوني آبادکارمقبوضہ علاقوں ميں پائي جانے والي بے سرو ساماني اور ديگر تمام طرح کي برائيوں کے نفسياتي دباؤ سے بچنے کے لئے منشيات اورشراب کا استعمال کرنے پر مجبور ہو رہے ہيں- اس وقت اسرائيل ميں شراب کا استعمال پوري دنيا ميں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ اسرائيل ميں جرائم اور خودکشي کي شرح بھي دنيا کے ديگر ملکوں کے مقابلے ميں تيزي سے بڑھتي جارہي ہے -............
/169