6 ستمبر 2011 - 19:30

شام کي حکومت نے اعلان کيا ہے کہ بين الاقوامي اداروں کو چاہئے کہ وہ مغرب کے دشمنانہ پروپيگنڈوں پر يقين کرنے کے بجائے اپنے نمائندے شام روانہ کريں جو يہاں آکے حالات کو اپني آنکھوں سے ديکھيں اور حقائق سے دنيا والوں کو آگاہ کريں-

ابنا: اس سلسلے ميں عالمي ريڈکراس سوسائٹي کے ايک وفد نے شام کا دورہ کيا ہے تاکہ عالمي ادارے ، مغربي حکومتوں کے پروپيگنڈوں سے ہٹ کر ، شام کے واقعات اور موجودہ بحران کے خاتمےکے لئے شام کي حکومت کے اصلاحي پروگراموں کا مشاہدہ کريں جس سے شام کي نيک نيتي ايک بار پھر واضح ہوئي ہے - ان حالات ميں شام کے صدر بشار اسد نے کہا ہے کہ مغربي ذرائع ابلاغ کے دشمنانہ پروپيگنڈوں کے دوران شام کے حالات سے آگاہي ، ہمارے لئے انتہائي اہم ہے اور جب تک عالمي ريڈ کراس سوسائٹي خودمختاري کے ساتھ اور سياسي محرکات سے دور رہتے ہوئے کام کرے گي ، ہم اس کے ساتھ بھر پور تعاون کريں گے -

بشار اسد نے شام کو بدنام کرنے کے لئےمغربي ذرائع ابلاغ کي کوششوں کي سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ريڈ کراس سوسائٹي کو براہ راست اور بغير کسي واسطے کے شام کے حالات سے آگاہي حاصل کرني چاہئے - يہ ايسي حالت ميں ہے کہ عالمي ريڈ کراس سوسائٹي کے سربراہ جيکب کلينبرگ نے بھي شام کے مختلف علاقوں اورجيلوں کے معائنے کے لئے ، شامي حکومت کے وسيع تعاون پر شکريہ ادا کيا ہے- انہوں نے ملک ميں بد امني کے خاتمے اور عام شہريوں کے تحفظ کے لئے شامي حکومت کے اقدامات کو سراہا ہے اور ان اقدامات کو ، شام ميں انسان دوستانہ سرگرميوں کو آگے بڑھانے کے لئے اہم قدم قرار ديا ہے - عالمي ريڈکراس سوسائٹي کے سربراہ نے يہ بيان ايسي حالت ميں ديا ہے کہ جب مغربي حکومتوں کي کوشش ہے کہ جھوٹ کا سہارا لےکر يہ ظاہر کيا جائے کہ شام کے حکام ، بد امني کو ختم کرنے کے لئے تشدد کا سہارا لے رہے ہيں - شام ميں مارچ کے مہينے سے بدامني شروع ہوئي ہے جو بشار اسد کے حاميوں اور مخالفوں کے درميان جھڑپوں کا نتيجہ رہي ہيں- شام کے حکومت کے مخالفين سيکوريٹي فورس پر لوگوں کے قتل عام کي ذمہ داري عائد کرتے ہيں اور شام کي حکومت ٹھوس شواہد کي بنا پر دہشت گرد گروہوں کو تخريبي کارروائيوں اور قتل و غارتگري کے واقعات کا ذمہ ٹھہراتے ہوئے زور ديتي ہے کہ غير ملکيوں نے اس بد امني کي سازش تيار کي ہے -............

/169